vosa.tv
Voice of South Asia!

ایران میں فیصلے اب کون لے رہا ہے؟

0

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ملک میں عبوری قیادت کا نظام قائم کر دیا گیا ہے۔ آئین کے مطابق تین رکنی عبوری کونسل نئی سپریم قیادت کے انتخاب تک ریاستی امور سنبھال رہی ہے۔ اس کونسل میں صدر مسعود پزشکیان، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہ ای اور سینئر مذہبی رہنما علی رضا اعرافی شامل ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں اقتدار کے خلا کو پر کرنے کے لیے عبوری نظام نافذ کر دیا گیا ہے اور نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ یہ ایران کی تاریخ میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران دوسری بار ہے کہ ملک کو نئی اعلیٰ قیادت کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے۔فی الحال ملک کا انتظام تین رکنی قیادت کونسل کے سپرد ہے، جس میں صدر مسعود پزشکیان، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسن ایژہ ای اور سینئر مذہبی رہنما علی رضا اعرافی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ عبوری کونسل ریاستی امور کو معمول کے مطابق چلانے اور نظام میں استحکام برقرار رکھنے کی ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔مستقل رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب 88 ارکان پر مشتمل ادارہ مجلس خبرگان رہبری کرے گا، جس کے ارکان عوامی ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں اور انہیں اعلیٰ مذہبی قیادت کے انتخاب کا آئینی اختیار حاصل ہے۔ تاہم جاری سکیورٹی صورتحال اور حالیہ حملوں کے باعث اس ادارے کا اجلاس بلانے میں تاخیر کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ممکنہ جانشینوں میں مجتبیٰ خامنہ ای، علی رضا اعرافی، محمد مہدی میر باقری اور حسن خمینی کے نام زیرِ غور ہیں، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حالات پیچیدہ رہے تو اجتماعی قیادت کا ماڈل بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عبوری دور میں اصل عملی اثر و رسوخ پاسدارانِ انقلاب کے پاس رہنے کا امکان ہے، جو ملک کی سکیورٹی اور معاشی ڈھانچے میں کلیدی کردار رکھتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.