امریکی ریاست ٹیکساس میں وفاقی اور ریاستی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پچہتر ملین ڈالر کے گولڈ بار اسکیم میں ایک اورانڈین جیولری اسٹورپر چھاپہ مار کر تیرہ ملازمین کو حراست میں لے لیا۔ حکام نے کا روائی کے دوران سونے سے بھرے کریٹ بھی ضبط کرلیے۔
نارتھ ٹیکساس میں بزرگ شہریوں کو نشانہ بنانے والے تقریبا75 ملین ڈالر کے مبینہ گولڈ بار اسکینڈل میں وفاقی اور ریاستی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ایک اور بڑی کاروائی ۔ حکام کے مطابق تقریباً 20 اہلکاروں نے رچرڈسن میں نارتھ سینٹرل ایکسپریس وے پر قائم مالانی جیولری اسٹور پر چھاپہ مار کر 13 ملازمین کو حراست میں لے لیا اور سونے سے بھرے کئی کریٹس بھی قبضے میں لے لیے۔ حکام کے مطابق مالانی جیولری اسٹور پر الزام ہے کہ یہ مبینہ طور پر گولڈ بار اسکیم کے متاثرین سے حاصل شدہ سونا خرید کر اسے منی لانڈرنگ کے ذریعے زیورات میں تبدیل کرنے کے گھنوونے کا کاروبار کا حصہ ہے۔ اسی دوران وفاقی اور ریاستی حکام نے اٹلانٹا اور اورلینڈومیں بھی جیولری اسٹورز پر بیک وقت چھاپے مارے۔ تینوں کارروائیوں میں مجموعی طور پر 50 ملین ڈالر سے زائد مالیت کا سونا برآمد کیا گیا۔تحقیقات کے مطابق اس فراڈ میں زیادہ تر بزرگ شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دھوکہ دہندہ افراد ای میل یا ٹیکسٹ پیغام کے ذریعے خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اہلکار ظاہر کرتے ہیں اور متاثرین کو یہ باور کراتے ہیں کہ ان کے بینک اکاؤنٹس ہیک ہو چکے ہیں یا وہ قانونی مشکل میں ہیں۔ بعد ازاں انہیں نقد رقم نکال کر سونا خریدنے اور ایک کوریئر کے حوالے کرنے کی ہدایت کی جاتی۔حکام کا کہنا ہے کہ کچھ جیولری اسٹورز مبینہ طور پر انہی کوریئرز سے سونا خرید کر اسے پگھلا کر زیورات، خصوصاً کنگنوں کی شکل میں تیار کرتے اور پھر انہیں فروخت یا ملک سے باہر اسمگل کر دیتے تھے۔ واضح رہے کہ 75 ملین ڈالر کے گولڈ بار فراڈ میں یہ تیسرا انڈین جیولری اسٹور ہے جس پر چھاپہ مارا گیا ہے۔ اور اب تک اس فراڈ کے الزام میں 20 افراد گرفتار کیے جاچکے ہیں ۔