پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی جھڑپوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور دونوں جانب سے بھاری نقصانات کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
پاکستانی وزیر دفاع کی جانب سے صورتحال کو کھلی جنگ قرار دینے کے بعد دفاعی ماہرین نے دونوں ممالک کی عسکری صلاحیت کا تقابلی جائزہ پیش کیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ فوجی طاقت کے لحاظ سے پاکستان کو نمایاں برتری حاصل ہے۔دفاعی جائزوں کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج میں تقریباً چھ لاکھ ساٹھ ہزار فعال اہلکار شامل ہیں، جن میں سے پانچ لاکھ ساٹھ ہزار فوج، ستر ہزار فضائیہ اور تیس ہزار بحریہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پاکستان کے پاس چھ ہزار سے زائد بکتر بند گاڑیاں، چار ہزار چھ سو سے زیادہ توپیں، چار سو پینسٹھ جنگی طیارے اور دو سو ساٹھ سے زائد ہیلی کاپٹر موجود ہیں۔ پاکستان ایک جوہری طاقت بھی ہے اور اس کے پاس تقریباً ایک سو ستر جوہری وار ہیڈز بتائے جاتے ہیں۔ چین کے ساتھ دفاعی تعاون اور مضبوط بھرتی و تربیتی نظام بھی اس کی صلاحیت کو مزید مستحکم بناتا ہے۔دوسری جانب افغانستان میں طالبان حکومت کے پاس تقریباً ایک لاکھ بہتر ہزار اہلکار موجود ہیں، جبکہ تعداد کو دو لاکھ تک بڑھانے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ طالبان کے پاس بکتر بند گاڑیاں اور سابقہ جنگوں میں حاصل ہونے والا اسلحہ موجود ہے، تاہم ان کی درست تعداد اور عملی کارکردگی کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں۔ فضائی قوت کے لحاظ سے افغانستان کو نمایاں کمزوری کا سامنا ہے اور اس کے پاس کوئی فعال لڑاکا طیارہ موجود نہیں، جبکہ محدود تعداد میں پرانے طیارے اور ہیلی کاپٹر موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان عسکری طاقت کا فرق واضح ہے، تاہم خطے میں پائیدار امن کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات اور سفارتی کوششیں ہی مؤثر اور دیرپا حل ثابت ہو سکتی ہیں۔