نیویارک کے میئر زوہران کوامے ممدانی نے شدید برفانی طوفان کے پیش نظر شہر میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے عوامی حفاظت کے لیے غیر ضروری گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندی عائد کر دی ہے۔
حکام کے مطابق اتوار رات 9 بجے سے پیر دوپہر 12 بجے تک شہر کی سڑکیں غیر ضروری ٹریفک کے لیے بند رہیں گی تاکہ ہنگامی عملہ اور ضروری خدمات بلا رکاوٹ کام کر سکیں۔انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ نیو یارک سٹی پبلک اسکولز کی تمام عمارتیں پیر 23 فروری کو بند رہیں گی اور روایتی اسنو ڈے ہوگا۔ اس دوران نہ آن لائن کلاسز ہوں گی اور نہ ہی دیگر سرگرمیاں۔ صرف وہ تعلیمی عمارتیں کھلی رہیں گی جو وارمنگ سینٹر کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں۔ایمرجنسی اقدامات کے تحت پیر کے روز آلٹرنیٹ سائیڈ پارکنگ معطل رہے گی جبکہ شہر کے مختلف محکموں کو قیمتوں میں ناجائز اضافے کی نگرانی اور عوامی حفاظت کے لیے خصوصی اقدامات کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔شہر بھر میں بے گھر اور ضرورت مند افراد کے لیے وارمنگ بسیں اور اضافی پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں، جبکہ نیو یارک سٹی ایمرجنسی مینجمنٹ، نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ (NYPD) اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر سڑکوں کی صفائی، ہنگامی امداد اور بنیادی سہولیات کی بحالی کے لیے متحرک ہیں۔حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بزرگوں اور ضرورت مند پڑوسیوں کا خیال رکھیں اور موسم کی صورتحال بہتر ہونے تک گھروں میں رہیں۔ ایمرجنسی حکم فوری طور پر نافذ العمل ہے اور پانچ دن تک برقرار رہے گا یا صورتحال کے مطابق اس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔