وزیراعظم شہبازشریف کا غزہ پیس بورڈ سے خطاب اور عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں
واشنگٹن: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ غزہ میں پائیدار امن کے لیے آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے اور یہ فلسطینی عوام کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقل امن کے لیے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں فوری طور پر بند ہونی چاہئیں۔
واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت غزہ بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس فورم میں شرکت باعثِ اعزاز ہے اور پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے عالمی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فلسطینیوں کو ان کے حقوق دیے جائیں تاکہ خطے میں استحکام ممکن ہو سکے۔وزیراعظم نے تنازعات کے حل میں صدر ٹرمپ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی بروقت کوششوں سے جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم ہوئی اور ممکنہ بڑے نقصان سے خطہ محفوظ رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں مستقل امن کا قیام عالمی قیادت کے لیے ایک اہم تاریخی کامیابی ثابت ہو سکتا ہے۔اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نے بحرین، آذربائیجان، ازبکستان، قازقستان اور انڈونیشیا کے رہنماؤں سے غیر رسمی ملاقاتیں بھی کیں، جن میں عالمی و علاقائی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم اس اجلاس میں شرکت کے لیے صدر ٹرمپ کی دعوت پر واشنگٹن میں موجود ہیں، جبکہ پاکستان کی اس فورم میں شمولیت غزہ میں امن اور تعمیرِ نو کے لیے ملک کے سفارتی کردار کی عکاسی کرتی ہے۔