vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکا: رشوت، فراڈ اور منی لانڈرنگ کیس میں بڑی سزا

0

امریکی وفاقی عدالت نے کورسہ کول کارپوریشن کے سابق نائب صدر چارلس ہنٹر ہابسن کو گرفتار کر کے بین الاقوامی رشوت اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں سزا سنائی ہے۔ 

حکام کے مطابق ہابسن پر الزام ہے کہ انہوں نے مصر کے سرکاری حکام کو رشوت دے کر تقریباً 1.4 کروڑ ڈالر کے کوئلے کی سپلائی کے معاہدے حاصل کیے۔امریکی محکمہ انصاف کے کرمنل ڈویژن کی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہابسن نے اپنے کاروبار کے لیے رشوت دی اور خود مالی فائدہ حاصل کیا۔انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی حکام کو رشوت دینا اور پھر پیسے کو منی لانڈرنگ کے ذریعے چھپانا غیر قانونی ہے اور عالمی مارکیٹ و قانون پر عمل کرنے والی کمپنیوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق ہابسن نے 2016 سے 2020 کے دوران رشوت دینے کے لیے ایک ثالث کا استعمال کیا، جس کے ذریعے 48 لاکھ ڈالر کے جعلی سیلز کمیشن کی صورت میں رشوت ادا کی گئی اور ہابسن نے 2 لاکھ ڈالر سے زائد ذاتی فائدہ حاصل کیا۔جوری نے ہابسن کو  غیر ملکی رشوت کے قوانین (FCPA) کی خلاف ورزی میں سازش، FCPA کی دو بار خلاف ورزی، منی لانڈرنگ میں سازش، منی لانڈرنگ کی دو بار خلاف ورزی، وائر فراڈ میں سازش، کے الزامات میں سزا سنائی۔ ہر FCPA اور سازش کے الزام پر پانچ سال تک قید، جبکہ منی لانڈرنگ اور وائر فراڈ کے الزامات پر بیس سال تک سزا ہو سکتی ہے۔ وفاقی عدالت کے جج آئندہ حتمی سزا سنائیں گے۔اس کیس میں شامل دوسرے ایگزیکٹو فریڈرک کشمور جونیئر نے پہلے ہی جرم قبول کر لیا ہے۔ 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.