vosa.tv
Voice of South Asia!

ایپیسٹن کا فرضی شادیوں اور تعلیمی داخلوں کے ذریعے خواتین کو امریکا میں رکھنے کا منصوبہ بے نقاب

0

واشنگٹن: امریکی محکمۂ انصاف کی نئی جاری کردہ دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین نے اپنے گرد موجود خواتین کو امریکا میں رکھنے کے لیے اسٹوڈنٹ ویزوں، انگریزی زبان کے کورسز اور مبینہ طور پر فرضی شادیوں کا سہارا لیا۔
فائلوں میں ایپسٹین کی گرل فرینڈ کارینا شولیاک سمیت متعدد خواتین کی امیگریشن کہانیوں کی تفصیلات شامل ہیں۔ دستاویزات کے مطابق 2013 میں ویزا مسائل کا سامنا کرنے والی شولیاک نے ایک امریکی شہری سے شادی کی، بعد ازاں گرین کارڈ اور پھر 2018 میں امریکی شہریت حاصل کی۔ شہریت ملنے کے کچھ عرصے بعد طلاق کی کارروائی بھی مکمل کرلی گئی۔ریکارڈ کے مطابق ایپسٹین نے 2011 میں شولیاک کو کولمبیا یونیورسٹی کے ڈینٹل اسکول میں داخل کرانے میں کردار ادا کیا، حالانکہ ان کی تعلیمی اسناد مکمل نہیں تھیں۔ امیگریشن حیثیت کے حوالے سے مسائل سامنے آنے پر ایپسٹین نے مختلف بااثر شخصیات اور وکلا سے رابطے کیے۔ای میلز میں سابق صدر براک اوباما کے سابق وائٹ ہاؤس کونسل سے وابستہ قانونی حلقوں اور اس وقت کے امیگریشن حکام کا بھی ذکر ملتا ہے، تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ سرکاری شخصیات کو اس مخصوص معاملے کا علم تھا یا وہ براہِ راست ملوث تھے۔دستاویزات کے مطابق متعدد خواتین کو انگریزی زبان کے اداروں میں داخل کرا کر آئی-20 فارم کے ذریعے اسٹوڈنٹ ویزا دلایا گیا۔ بعض کیسز میں ورک ویزا اور او-ون ویزا کے لیے بھی درخواستیں دی گئیں، جن میں ماڈلنگ، پبلک ریلیشنز اور آرٹ جیسے شعبوں میں غیر معمولی صلاحیتوں کا دعویٰ کیا گیا۔ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین خواتین کی فیس، رہائش اور دیگر اخراجات برداشت کرتے تھے، جبکہ بعض معاملات میں مشترکہ بینک اکاؤنٹس اور شادی کے سرٹیفکیٹس بھی سامنے آئے۔ حکام کے مطابق یہ تمام اقدامات بظاہر قانونی دستاویزات کے ذریعے کیے گئے، تاہم ان کا مقصد امیگریشن قوانین کو مخصوص انداز میں استعمال کرنا تھا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی فائلوں نے ایپسٹین کے نیٹ ورک کے ایک اور پہلو کو بے نقاب کر دیا ہے، جس میں قانونی راستوں کو استعمال کرتے ہوئے خواتین کو امریکا میں مقیم رکھنے کی منظم حکمتِ عملی اپنائی گئی۔ کیس سے جڑی کئی شخصیات اب بھی سوالات کی زد میں ہیں، جبکہ مزید انکشافات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.