vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکا کی ایران کے خلاف طویل فوجی کارروائی کی تیاریاں، مشرقِ وسطیٰ میں نقل و حرکت تیز

0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئی تو کارروائیاں کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی فوج اس امکان کے تحت منصوبہ بندی کر رہی ہے کہ اگر صدر ٹرمپ حملے کا حکم دیتے ہیں تو ایران کے خلاف عسکری مہم طویل ہو سکتی ہے۔ اس پیش رفت سے آگاہ دو امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ممکنہ تنازع ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین نوعیت اختیار کر سکتا ہے۔دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کوششوں پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ دونوں ممالک کے سفارت کاروں نے گزشتہ ہفتے عمان میں ملاقات کی، جہاں ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت بحال کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی امریکی عسکری موجودگی نے نئی کارروائی کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔امریکی حکام کے مطابق پینٹاگون مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز بھیج رہا ہے، جس کے ساتھ ہزاروں اضافی فوجی، جنگی طیارے اور گائیڈڈ میزائل بردار بحری جہاز تعینات کیے جا رہے ہیں۔نارتھ کیرولائنا میں امریکی فوجیوں سے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا مشکل ثابت ہو رہا ہے اور بعض اوقات دباؤ ڈالنا ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہوتا ہے۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے کہا کہ صدر کے پاس ایران سے متعلق تمام آپشنز موجود ہیں اور وہ امریکی قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں گے۔حکام کے مطابق اس بار کی عسکری منصوبہ بندی پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہے اور ممکنہ طور پر صرف جوہری تنصیبات ہی نہیں بلکہ ایران کے ریاستی اور سیکیورٹی اداروں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس میزائلوں کا مضبوط ذخیرہ موجود ہے، جس کے باعث امریکی افواج کو نمایاں خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور جوابی کارروائی پورے خطے کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ایک امریکی اہلکار کے مطابق واشنگٹن کو مکمل توقع ہے کہ ایران کی جانب سے بھرپور ردعمل سامنے آ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں حملوں کا سلسلہ کچھ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ برس امریکا نے ایران کی بعض جوہری تنصیبات پر محدود حملے کیے تھے، جن کے جواب میں ایران نے قطر میں امریکی اڈے پر محدود نوعیت کی کارروائی کی تھی۔ تاہم اس بار ممکنہ مہم کو زیادہ وسیع اور طویل سمجھا جا رہا ہے۔دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی سرزمین پر حملہ ہوا تو خطے میں موجود کسی بھی امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔اسی تناظر میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی اور زور دیا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اسرائیل کی سلامتی سے متعلق نکات کو شامل کیا جائے۔ایران کا مؤقف ہے کہ پابندیاں ختم ہونے کی صورت میں وہ اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم میزائل پروگرام کو مذاکرات کا حصہ بنانے سے انکار کر چکا ہے۔خطے کی بدلتی صورتحال نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور آئندہ چند ہفتے اس حوالے سے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.