سوشل میڈیا پر غلافِ کعبہ کی مبینہ بے حرمتی سے متعلق وائرل ہونے والی تصویر کے بارے میں حرمین شریفین سے وابستہ ذرائع اور ماہرین نے وضاحت جاری کرتے ہوئے دعویٰ مسترد کر دیا ہے کہ تصویر میں دکھایا گیا کپڑا اصل کسوہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں ایک تصویر تیزی سے وائرل ہوئی جس میں ایک سیاہ کپڑا زمین پر بچھا دکھائی دے رہا تھا اور یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ یہ غلافِ کعبہ ہے جس کی بے حرمتی کی گئی۔ تصویر کے بعد مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور مذہبی جذبات بھڑک اٹھے۔انسائیڈ دی حرمین کے مطابق اس وائرل تصویر کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے حرم شریف سے وابستہ افراد اور ماہرین سے گفتگو کی گئی۔ حرم شریف سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ذرائع اور ماہرین نے تصویر کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد واضح کیا کہ یہ کپڑا اصل کسوہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق تصویر میں موجود کپڑے کی لمبائی اور چوڑائی اصلی غلافِ کعبہ کے معیار سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اصل کسوہ کے بڑے حصوں کو حرکت دینے کے لیے عام طور پر زیادہ افراد درکار ہوتے ہیں، جبکہ وائرل تصویر میں کپڑا نسبتاً چھوٹا دکھائی دیتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل کسوہ نہایت بھاری اور مضبوط کپڑے سے تیار کیا جاتا ہے، جس پر مخصوص طرز کی کڑھائی اور قرآنی آیات سونے اور چاندی کے دھاگوں سے نقش کی جاتی ہیں۔ زمین پر رکھنے کی صورت میں اس میں عام کپڑے کی طرح سلوٹیں نمایاں نہیں ہوتیں، جبکہ وائرل تصویر میں کپڑا ہلکا اور عام نوعیت کا محسوس ہوتا ہے۔مزید یہ کہ تصویر میں دکھائے گئے ڈیزائن، بارڈر اور کناروں کی بناوٹ بھی اصلی کسوہ سے مختلف ہے۔ ماہرین نے مختلف نمونوں اور ساخت کا موازنہ کرنے کے بعد تصدیق کی کہ وائرل تصویر میں موجود کپڑا غلافِ کعبہ نہیں، اور اس حوالے سے پھیلایا جانے والا تاثر غلط اور بے بنیاد ہے۔