امریکی اپیلز کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس امیگریشن پالیسی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا ہے جس کے تحت زیرِ حراست غیرملکی شہریوں کو ضمانت کے بغیر جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ففتھ سرکٹ کورٹ آف اپیلز کے تین رکنی بینچ نے 2 کے مقابلے میں 1 کی اکثریت سے قرار دیا کہ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کا مؤقف آئین اور وفاقی امیگریشن قانون سے مطابقت رکھتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایسے غیر شہری جو قانونی طور پر داخل نہیں سمجھے جاتے، انہیں ملک کے اندر کہیں بھی گرفتار کیا جائے، وہ ضمانت پر رہائی کے اہل نہیں۔یہ فیصلہ ان ن عدالتوں کے برعکس ہے جنہوں نے حالیہ مہینوں میں اس پریکٹس کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے زیرحراست افراد کو بونڈ ہیئرنگ کا حق دیا تھا۔ ماضی کی حکومتوں میں سرحد سے دور گرفتار ہونے والے ایسے افراد جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ ہو، عموماً امیگریشن عدالت میں کیس چلنے کے دوران ضمانت کی درخواست دے سکتے تھے۔ لازمی حراست زیادہ تر حالیہ سرحدی کراسنگ تک محدود سمجھی جاتی تھی۔