vosa.tv
Voice of South Asia!

مِنی سوٹا میں امیگریشن اہلکاروں کی بھیس بدل کر کارروائیاں

0

امریکی ریاست مِنی سوٹا میں امیگریشن کریک ڈاؤن کے دوران وفاقی اہلکاروں کی جانب سے مختلف بھیس بدل کر کارروائیاں کرنے کی اطلاعات نے تارکین وطن کمیونٹی میں خوف و ہراس میں اضافہ کر دیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق مقامی رہائشیوں اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایسے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں مبینہ طور پر امیگریشن حکام تعمیراتی مزدوروں، ڈیلیوری ڈرائیورز اور بعض اوقات امیگریشن مخالف کارکنوں کے روپ میں نظر آئے۔مضافاتی منی ایپولس میں ایک میکسیکن ریسٹورنٹ کے مالک لوئس رامیریز نے بتایا کہ وہ کئی دنوں سے اپنے کاروبار کے باہر مشتبہ افراد کو دیکھ رہے تھے جو ہائی وِزیبلٹی جیکٹس اور سفید ہیلمٹ پہنے ایک گاڑی میں بیٹھے رہتے تھے۔ ان کے مطابق گاڑی پر درج ایک الیکٹریشن کمپنی کا نام تلاش کرنے پر بھی کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔ ہوم لینڈ سکیورٹی اور امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے ترجمانوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا ویڈیو میں نظر آنے والے افراد وفاقی امیگریشن اہلکار تھے یا نہیں۔ تاہم مقامی وکلا اور کمیونٹی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی اطلاعات میں حالیہ مہینوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے قانونی حیثیت رکھنے والے اور بغیر دستاویزات مقیم افراد دونوں میں بے چینی پھیل رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے طریقۂ کار نہ صرف قانونی اور اخلاقی سوالات کو جنم دیتے ہیں بلکہ کمیونٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ مِنی سوٹا میں جاری سخت امیگریشن مہم کے تناظر میں شہری آزادیوں اور نفاذ قانون کے اختیارات پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.