vosa.tv
Voice of South Asia!

نیویارک نے وفاقی امیگریشن دباؤ کے خلاف حفاظتی اقدامات سخت کر دیے

0

نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی نے سالانہ بین المذاہب ناشتے کی تقریب کے دوران شہر کی پناہ گزینوں کے لیے محفوظ پالیسی کو مزید مضبوط بنانے کا اعلان کرتے ہوئے ایک نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کر دیا۔

نیویارک میئر آفس کی ویب سائٹ پر جاری خبر کے مطابق اس اقدام کا مقصد وفاقی امیگریشن اداروں کی مبینہ سخت کارروائیوں کے مقابلے میں تارکین وطن نیویارکرز کے حقوق، رازداری اور قانونی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ تقریب میں شہر بھر سے تقریباً چار سو مذہبی اور کمیونٹی رہنما شریک ہوئے۔نئے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت شہری اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی رہائشی کی ذاتی معلومات وفاقی امیگریشن حکام کے ساتھ شیئر نہ کریں، سوائے ان صورتوں کے جہاں قانون واضح طور پر اس کی اجازت دے۔ حکم نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اسکولوں، اسپتالوں، پناہ گاہوں اور دیگر شہری عمارتوں میں وفاقی امیگریشن اہلکار صرف عدالتی وارنٹ کے ساتھ ہی داخل ہو سکیں گے۔ تمام متعلقہ محکموں کو اپنی پالیسیوں کا آڈٹ کرنے اور عملے کو نئی ہدایات پر تربیت دینے کا بھی پابند بنایا گیا ہے۔میئر ممدانی نے اس موقع پر شہر گیر “اپنے حقوق جانیں” نامی مہم بھی شروع کی، جس کے تحت تقریباً 32 ہزار کتابچے اور فلائرز 10 زبانوں میں تقسیم کیے جائیں گے، جن میں اردو بھی شامل ہے۔ ان مواد میں وفاقی امیگریشن حکام سے سامنا ہونے کی صورت میں خاموش رہنے کے حق، وکیل سے بات کرنے کے حق اور مترجم طلب کرنے کے حق سمیت بنیادی قانونی معلومات دی گئی ہیں۔ یہ مواد مذہبی اداروں کے ذریعے کمیونٹی تک پہنچایا جائے گا۔شہر کی میئر آفس آف امیگرنٹ افیئرز کی قانونی معاونت ہاٹ لائن بھی نمایاں کی گئی ہے، جہاں پیر سے جمعہ صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک مفت رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ میئر نے مذہبی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ اس معلومات کو ہر طبقے تک پہنچائیں تاکہ کوئی بھی نیویارکر خوف یا لاعلمی کے باعث اپنے حقوق سے محروم نہ رہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.