امریکی فوج نے بحرالکاہل کے مشرقی حصے میں ایک کشتی پر تازہ حملے میں دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
قطری نشریاتی ادارہ الجزیرہ کے مطابق امریکی سدرن کمانڈ نے کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کو منشیات اسمگلنگ سے منسلک قرار دیا ہے، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی شواہد جاری نہیں کیے گئے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت بحیرہ کیریبین اور بحرالکاہل میں مشتبہ کشتیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ امریکی مؤقف ہے کہ یہ آپریشنز قومی سلامتی اور منشیات کی روک تھام کے لیے ضروری ہیں۔دوسری جانب بین الاقوامی قانون کے ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنان ان حملوں کو متنازع قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کھلے سمندر میں فوجی طاقت کا استعمال اور بغیر عدالتی کارروائی کے ہلاکتیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور ماورائے عدالت قتل کے زمرے میں آ سکتی ہیں، خاص طور پر جب متاثرہ افراد کے جرائم میں ملوث ہونے کے شواہد سامنے نہ لائے جائیں۔رپورٹس کے مطابق ستمبر 2025 سے اب تک ایسے درجنوں حملوں میں ایک سو سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ بعض متاثرین کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد ماہی گیر تھے اور کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث نہیں تھے، جس کے بعد ان کارروائیوں پر عالمی سطح پر قانونی اور اخلاقی سوالات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔