غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حالیہ حملوں میں کم از کم 23 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جبکہ اکتوبر 2025 میں شروع ہونے والی مبینہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک 520 سے زائد فلسطینی اسرائیلی حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔
خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں متعدد بچے بھی شامل ہیں، جن میں 11 سالہ بچی بھی شامل بتائی گئی ہے۔غزہ سٹی کے التفاح اور الزیتون علاقوں پر گولہ باری کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد مارے گئے۔ جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کے قریب قیزان ابو رشوان کے علاقے میں بے گھر افراد کے خیموں پر حملے میں مزید چار افراد جان سے گئے۔ المواصی کے ساحلی خیمہ بستی پر فضائی حملوں میں دو افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے مطابق ایک ریسکیو اہلکار حسین حسن حسین السمیری بھی حملے میں مارے گئے۔میدان سے رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے مطابق غزہ سٹی میں متعدد رہائشی مکانات کو بغیر کسی پیشگی وارننگ نشانہ بنایا گیا۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے دعوؤں کے باوجود فضاؤں میں ڈرون طیاروں کی مسلسل پرواز اور دھماکوں کی آوازیں خوف کی فضا برقرار رکھے ہوئے ہیں۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں اس کے بکتر بند یونٹس اور طیاروں نے اس وقت کارروائی کی جب ایک ریزرو افسر پر فائرنگ ہوئی اور وہ شدید زخمی ہوا۔ فوج کے مطابق یہ واقعہ اسرائیلی کنٹرول والے علاقوں کی حد بندی کرنے والی نام نہاد "ییلو لائن” کے قریب پیش آیا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حد بندی کی جگہ میں تبدیلی سے مشرقی غزہ کے رہائشیوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک 520 سے زائد فلسطینی اسرائیلی حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔ بدھ کے روز حکام نے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے 54 فلسطینیوں کی لاشیں اور انسانی اعضا پر مشتمل 66 ڈبے ریڈ کراس کے حوالے کیے، جن کا طبی معائنہ کرنے کے بعد انہیں لواحقین کے سپرد کیا جائے گا۔