وینزویلا کے دارالحکومت میں ہزاروں افراد احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور امریکہ سے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
خبر رساں ادارےالجزیرہ کے مطابق یہ مظاہرہ اُن کی گرفتاری کے ایک ماہ مکمل ہونے پر منعقد کیا گیا۔ مظاہرین نے بینرز اور تصاویر اٹھا رکھے تھے جبکہ مجمع “وینزویلا کو نکولس کی ضرورت ہے” کے نعرے لگاتا رہا۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مادورو کے صاحبزادے اور رکنِ قومی اسمبلی نکولس مادورو گویرا نے دعویٰ کیا کہ تین جنوری کو امریکی فوجی کارروائی کے دوران ان کے والد کو حراست میں لیا گیا، جسے انہوں نے ملکی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ قوم کی یادداشت پر ایک گہرے زخم کی طرح نقش رہے گا۔سرکاری حمایت یافتہ اس مارچ میں سرکاری ملازمین کی بڑی تعداد شریک ہوئی جبکہ مقامی میڈیا کے مطابق یہ احتجاج ایک عالمی یومِ یکجہتی کا حصہ بھی تھا۔ دنیا کے مختلف شہروں میں بھی مظاہروں کی اطلاعات دی گئیں، جہاں مظاہرین نے وینزویلا کی خودمختاری کے حق میں آواز اٹھائی۔ادھر قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز ایک نازک سیاسی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے اندرونِ ملک مفاہمتی اقدامات اور کچھ قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا ہے۔