نیویارک سٹی میں جاری شدید سرد لہر جان لیوا ثابت ہونے لگی ہے، میئر زوہران ممدانی نے تصدیق کی ہے کہ سخت موسم کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 16 ہو گئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے بی سی نیوز کے مطابق سٹی ہال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئر نے کہا کہ یہ اموات حالیہ دنوں میں درجہ حرارت خطرناک حد تک گرنے کے دوران پیش آئیں، جب کئی افراد کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔شہری انتظامیہ کے مطابق ابتدائی طبی رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ 13 افراد کی موت میں ہائپوتھرمیا نے اہم کردار ادا کیا، جو اس وقت ہوتا ہے جب جسم کا درجہ حرارت غیر معمولی حد تک کم ہو جائے۔ مزید تین اموات مبینہ طور پر منشیات کے زیادہ استعمال سے منسلک پائی گئی ہیں۔ میئر ممدانی نے کہا کہ سردی کی لہر شروع ہوتے ہی بے گھر افراد تک رسائی بڑھا دی گئی تھی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 930 سے زائد افراد کو شیلٹرز اور سیف ہیون مراکز منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ 18 افراد کو ہنگامی اختیارات کے تحت زبردستی منتقل کیا گیا کیونکہ وہ اپنی یا دوسروں کی جان کے لیے خطرہ سمجھے گئے۔ میئر نے واضح کیا کہ حالیہ اموات میں سے کوئی بھی واقعہ بے گھر کیمپوں کے اندر پیش نہیں آیا، جس پر بعض حلقوں کی جانب سے تشویش ظاہر کی جا رہی تھی۔