vosa.tv
Voice of South Asia!

صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چودھری سفرِ آخرت پر روانہ

0


اسلام آباد( ویب ڈیسک)آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اسلام آباد کے نجی اسپتال میں انتقال کرگئے۔وہ طویل عرصے سے علیل تھے، ان کی عمر 71 برس تھی، مرحوم کی نماز جنازہ کل بروز اتوار کرکٹ اسٹیڈیم میرپور میں شام 4 بجے ادا کی جاے گی۔

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا شمار خطے کے ان سیاست دانوں میں ہوتا تھا جو گزشتہ قریباً ساڑھے تین دہائیوں سے کشمیر کی سیاست میں متحرک کردار ادا کر رہے تھے۔ان کا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے تھا، ان کے والد چوہدری نور حسین بھی کشمیر کی سیاست کا ایک نمایاں نام رہے۔ان کے انتقال پر  نہ صر ف پاکستان   بلکہ دنیا  بھر میں  مقیم کشمیری  کمیونٹی   غمزدہ اور افسردہ ہے ۔نیویارک میں کشمیری   رہنما  چودھری ظہور   نے جب بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے انتقال کی خبر سنی تو وہ رو پڑے ۔ ان کا کہنا ہے  کہ کشمیری کمیونٹی کو ایسا رہنما شاید ہی دوبارہ نصیب ہو۔

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کا تعارف

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری 9اگست 1955ء کو چیچیاں میرپور ازاد کشمیر میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے ابائی گاؤں چیچیا ں میر پور میں حاصل کی جبکہ میٹرک کینٹ پبلک سکول راولپنڈی سے کیا جبکہ گریجویشن گورڈن کالج راولپنڈی سے کیا ۔بعداذاں وہ اعلی تعلیم کے لیے برطانیہ چلے گئے جہاں سے انہوں نے معروف قانونی درس کا لنکنن ان سے قانون کی اعلی ڈگری بار ایٹ لا کیا ۔

سیاسی پس منظر اور جدوجہد

بیرسٹر سلطان محمود چوہدری1983میں وہ برطانیہ سے واپس وطن واپس ائے اور عملی سیاست کا اغاز کیا ۔وہ  سابق صدر ازاد کشمیر کے ایچ خورشید کہ ہمراہ ازاد جمو کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر رہے جبکہ 1990ء میں وہ نامزد صدر کہ عہدے کے لیے منتخب ہوئے تاہم عمر میں ایک ماہ کی کمی کے باعث وہ اس وقت صدر منتخب نہ ہو سکے جبکہ بعد ازاں 1996ء میں وہ آزادجموں وکشمیر کے وزیراعظم منتخب ہوئے ۔اسی طرح 2001 میں وہ ازاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے پر فائز رہے ۔جبکہ وہ اپنے ابائی حلقے میرپور سے 9بار ممبر اسمبلی منتخب ہوئے جبکہ وہ صدرآزادمسلم کانفرنس ,صدرلیبریشن لیگ ازاد کشمیر, صدرپیپلز پارٹی ازاد کشمیر,صدرپاکستان تحریک انصاف ازاد کشمیر کہ عہدوں پر بھی فائز رہے ۔وہ2021ء میں ازاد کشمیر کے صدر منتخب ہوئے ۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو جارحانہ اور موثر انداز میں اجاگر کیا۔انہوں نے اقوام متحدہ ،امریکی وزارت خارجہ سمیت مختلف ممالک کی اور پارلیمئنٹس مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف ممالک میں کشمیریوں کے مظاہروں قیادت کی جبکہ انہوں نے نے لندن کے ٹرافلگر اسکویئر ,نیویارک میں اقوام متحدہ کے دفترکےسامنے ,مسلز میں یورپی یونین اور یورپی پارلیمنٹ کے سامنے ,ڈبلن میں ائرلینڈ کی پارلیمنٹ کے سامنے سمیت میں دیوار برلن پر شاندار ملین مارچز کی قیادت بھی کی ۔جبکہ انہوں نے سفارتی سطح پر اسلام اباد میں تعینات تعینات یورپی اور اسلامی ممالک کے سفیروں سے بے شمار ملاقاتیں کی اور انہیں مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر بارہا بریفنگ بھی دی ۔وہ ازاد کشمیر کے واحد لیڈر تھے جنہیں مقبوضہ کشمیر کے دورے کا شرط بھی حاصل ہوا بوزہ کشمیر کے دورے کے دوران انہوں نے سری نگر کے تاریخی لال چوک میں کشمیری عوام سے خطاب بھی کیا اسی طرح دورہ سری نگر کے دوران انہوں نے چیئرمین ال پارٹیز کانفرنس سید علی گیلانی سید شبیر شاہ ,چیئرمین ازاد جموں کشمیر لبریشن فرنٹ یاسین ملک سمیت متعدد کشمیری لیڈروں سے ملاقاتیں بھی کی ان کا سری نگر کا یہ دورہ خاصی تاریخی اہمیت کا حامل رہا ۔مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ۔وہ ازاد کشمیر کے واحد سیاستدان ہیں جنہیں ازاد کشمیر کے ہر حلقہ میں عوامی مقبولیت اور ووٹ بینک حاصل ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.