امریکہ بھر میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کی کارروائیوں کے خلاف دی گئی ملک گیر ہڑتال کی کال کے دوران نیویارک سٹی میں ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
خبر رساں ادارے اے بی سی نیوز کے مطابق مظاہرین فولی اسکوائر میں جمع ہوئے اور بعد ازاں ریلی کی صورت میں واشنگٹن اسکوائر پارک کی جانب مارچ کیا، جبکہ یونین اسکوائر میں بھی دن بھر احتجاجی سرگرمیاں جاری رہیں۔ منتظمین کی جانب سے ’’نو ورک، نو اسکول، نو شاپنگ‘‘ کا نعرہ دیتے ہوئے عوام سے روزمرہ سرگرمیاں معطل کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے جب حالیہ امیگریشن کارروائیوں کے دوران فائرنگ سے ہلاکتوں پر عوامی غم و غصہ بڑھ گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایک نرس کو بارڈر پیٹرول کی کارروائی کی ویڈیو بنانے کے دوران گولیاں مار دی گئیں، جبکہ اس سے قبل بھی ایک خاتون ڈرائیور کی ہلاکت نے حکومتی پالیسیوں پر سوالات کھڑے کیے تھے۔ انسانی حقوق کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان واقعات نے امیگریشن نفاذ کے طریقہ کار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔نیویارک امیگرنٹ کولیشن سمیت مختلف تنظیموں نے مظاہروں کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ امیگریشن کارروائیوں میں تشدد کا خاتمہ کیا جائے اور کمیونٹیز کو خوف سے نجات دلائی جائے۔