امریکی ریاست فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے میڈی کیئر پروگرام کو جعلی جینیاتی ٹیسٹوں کے ذریعے کروڑوں ڈالر کا نقصان پہنچانے کے الزام میں جرم قبول کر لیا ہے۔
استغاثہ کے مطابق ملزم نے ایسے ٹیسٹوں کے لیے بل جمع کرائے جو مریضوں کو درکار ہی نہیں تھے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق لیک ورتھ، فلوریڈا کے 38 سالہ شان آلٹر مین دو لیبارٹریز چلاتے تھے، جن کے ذریعے انہوں نے مریضوں کو تلاش کرنے والے ایجنٹوں سے ڈاکٹروں کے نسخے خریدے۔ یہ ایجنٹ ٹیلی مارکیٹنگ مہمات کے ذریعے میڈی کیئر سے منسلک افراد کو گمراہ کرتے اور انہیں غیر ضروری جینیاتی ٹیسٹ کروانے پر آمادہ کرتے تھے، تاکہ بعد میں حکومت کو جعلی بل بھیجے جا سکیں۔اس اسکیم میں “ڈاکٹر چیزنگ” نامی طریقہ استعمال کیا گیا، جس کے تحت ڈاکٹروں کو جعلی اور گمراہ کن فیکس بھیجے جاتے تھے تاکہ وہ ایسے ٹیسٹوں کی منظوری دے دیں جن کی حقیقت میں ضرورت نہیں تھی۔ ان درخواستوں میں جھوٹا دعویٰ کیا جاتا تھا کہ یہ نسخے کسی مشترکہ مریض کی جانب سے بھیجے جا رہے ہیں، حالانکہ یہ سب کال سینٹرز کے ذریعے تیار کیے جاتے تھے اور مریضوں کا معائنہ بھی نہیں کیا جاتا تھا۔استغاثہ کے مطابق ملزم کی لیبارٹریز نے میڈی کیئر کو تقریباً 52 ملین ڈالر کے جعلی دعوے بھیجے، جن میں سے لگ بھگ 36 ملین ڈالر ادا بھی کر دیے گئے۔ ملزم نے اس فراڈ سے تقریباً 5.5 ملین ڈالر کمائے، جن کا بڑا حصہ اس نے اپنی قائم کردہ شیل کمپنیوں کے ذریعے حاصل کیا۔ پلی بارگین کے تحت ملزم نے اپنی جائیداد اور 2022 ماڈل رولز رائس گھوسٹ گاڑی ضبط کروانے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔شان آلٹر مین نے ہیلتھ کیئر فراڈ اور غیر قانونی کمیشن دینے کی سازش کے الزامات میں جرم قبول کیا ہے۔ اس کی سزا کا فیصلہ 16 اپریل کو متوقع ہے اور اسے زیادہ سے زیادہ 15 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔