ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ممکنہ امریکی حملے کے خدشے کے پیشِ نظر تہران میں ایک خصوصی زیرِ زمین پناہ گاہ منتقل کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
یہ دعویٰ ایران سے متعلق خبریں شائع کرنے والی ویب سائٹ ایران انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر جس مقام پر آیت اللہ خامنہ ای کو منتقل کیا گیا ہے وہ ایک محفوظ اور مضبوط کمپلیکس ہے، جہاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی سرنگیں موجود ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں ان کی جان کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سپریم لیڈر کے تیسرے بیٹے مسعود خامنہ ای نے ان کے دفتر کے روزمرہ امور کی نگرانی سنبھال لی ہے اور وہ رہبرِ اعلیٰ اور حکومتی اداروں کے درمیان رابطے کا مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔تاہم ایرانی حکام نے ان رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سرکاری طور پر تردید کی ہے۔ بھارتی میڈیا ادارے این ڈی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ممبئی میں ایران کے جنرل قونصلر سعید رضا مصیب مطلق نے کہا کہ ایران کسی بھی غیر ملکی طاقت سے خوفزدہ نہیں اور اس قسم کی خبریں محض افواہوں پر مبنی ہیں۔ایرانی جنرل قونصلر کا کہنا تھا کہ سپریم لیڈر کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی انتظامات کا ہونا ایک فطری امر ہے، جیسا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ہوتا ہے، تاہم یہ تاثر دینا درست نہیں کہ آیت اللہ خامنہ ای کسی بنکر یا پناہ گاہ میں چھپے ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سپریم لیڈر حکومتی امور انجام دے رہے ہیں اور ضروری اجلاس ویڈیو کانفرنسنگ سمیت دیگر ذرائع سے منعقد کیے جا رہے ہیں۔دوسری جانب اسلامی انقلاب گارڈز کور کے کمانڈر جنرل محمد پاکپور نے کہا ہے کہ امریکی جنگی بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہے ہیں، تاہم ایرانی افواج ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہیں۔ انہوں نے امریکی اور اسرائیلی افواج کو کسی بھی قسم کے غلط اقدام سے باز رہنے کی وارننگ بھی دی ہے۔