امریکی وفاقی امیگریشن حکام نے منی سوٹا میں دو سالہ بچی اور اس کے والد کو حراست میں لے کر ٹیکساس منتقل کر دیا، جس پر وکلا اور انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق بچی اور اس کے والد کو جمعرات کی دوپہر اس وقت روکا گیا جب وہ دکان سے واپس گھر آ رہے تھے، تاہم ایک وفاقی جج کے حکم کے باوجود انہیں ریاست سے باہر منتقل کر دیا گیا۔عدالت کے حکم میں بچی کو فوری طور پر رہا کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود امیگریشن حکام نے باپ بیٹی کو جہاز کے ذریعے ٹیکساس کے ایک حراستی مرکز منتقل کر دیا۔ بعد ازاں، وکلا کی قانونی کوششوں کے نتیجے میں بچی کو دوبارہ منی سوٹا واپس لا کر اس کی والدہ کے حوالے کر دیا گیا، جبکہ والد تاحال حراست میں ہیں۔خاندان کے وکلا کے مطابق گرفتاری کے وقت اہلکاروں کے پاس وارنٹ موجود نہیں تھا، جبکہ کارروائی کے دوران مبینہ طور پر گاڑی کا شیشہ توڑا گیا اور بچی کو بغیر کار سیٹ کے سرکاری گاڑی میں منتقل کیا گیا۔ وکلا نے الزام لگایا کہ اہلکاروں نے والد کو بچی کو اس کی والدہ کے حوالے کرنے کی اجازت بھی نہیں دی، جو گھر کے اندر خوفزدہ حالت میں موجود تھیں۔محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ کارروائی ایک “آپریشن” کے تحت کی گئی اور والد کو غیر قانونی طور پر امریکہ میں موجود قرار دیا، تاہم خاندان کے وکلا نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ والد کی سیاسی پناہ کی درخواست زیرِ سماعت ہے اور بچی کی امریکہ میں پیدائش کے بعد سے منی سوٹا میں رہائش ہے۔