امریکا کے درجنوں بڑے شہروں میں قتل کی شرح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق 2024 سے 2025 کے دوران 35 امریکی شہروں میں قتل کے واقعات میں مجموعی طور پر 21 فیصد کمی آئی، جس کا مطلب گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 922 کم ہلاکتیں ہیں۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ اعداد و شمار آزاد ادارے کونسل آن کریمنل جسٹس کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 13 مختلف جرائم کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 11 کی شرح میں کمی دیکھی گئی، جن میں کار جیکنگ، دکانوں سے چوری، سنگین حملے اور دیگر جرائم شامل ہیں۔ منشیات سے متعلق جرائم میں معمولی اضافہ ہوا۔ ماہرین کے مطابق سروے میں شامل نہ ہونے والے دیگر شہروں اور ریاستوں میں بھی جرائم کی شرح میں اسی نوعیت کی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔کونسل کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ایڈم گیلپ نے کہا کہ کووِڈ-19 کے دوران تشدد میں تاریخی اضافے کے بعد اب تشویش ناک حد تک بڑی کمی دیکھی جا رہی ہے، اور بعض شہروں میں قتل کی شرح دہائیوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ ان کے مطابق جرائم میں اتار چڑھاؤ کی کوئی ایک وجہ نہیں ہوتی اور اس کمی کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 35 میں سے 31 شہروں میں قتل کی شرح کم ہوئی، جن میں ڈینور، اوماہا اور واشنگٹن میں 40 فیصد یا اس سے زیادہ کمی شامل ہے، جبکہ صرف لٹل راک، آرکنساس ایسا شہر تھا جہاں قتل کی شرح میں 16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ یہ رجحان حوصلہ افزا ہے، تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ جرائم میں یہ کمی مستقل رہے گی یا اس کا کریڈٹ کسی ایک پالیسی یا حکومت کو دیا جا سکتا ہے۔