امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر اپنے نئے عالمی اقدام ’بورڈ آف پیس‘ کا باضابطہ آغاز کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا ایک سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مستحکم اور پُرامن ہو چکی ہے۔
خبر رساں ادارے دی گارجین کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس نئے ادارے کو تاریخ کے اہم ترین عالمی فورمز میں سے ایک قرار دیا، جس کی صدارت وہ خود کریں گے۔ابتدا میں یہ بورڈ غزہ میں جنگ بندی کے منصوبے کے تناظر میں سامنے آیا تھا، تاہم اب صدر ٹرمپ اسے وسیع تر عالمی سیاسی کردار دینے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے یہاں تک کہا کہ یہ ادارہ مستقبل میں اقوامِ متحدہ کی جگہ بھی لے سکتا ہے، جس پر بعض عالمی رہنماؤں اور سفارت کاروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ابتدائی مرحلے میں 19 ممالک نے اس منصوبے میں شمولیت اختیار کی ہے، جن میں ارجنٹینا، کوسووو، مراکش، ہنگری، انڈونیشیا، اردن اور قازقستان شامل ہیں، جبکہ مزید ممالک کی شمولیت متوقع بتائی جا رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو بھی بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے، تاہم ماسکو نے تاحال حتمی فیصلہ نہیں کیا۔دوسری جانب برطانیہ، فرانس، جرمنی اور ناروے سمیت کئی یورپی ممالک نے اس وقت بورڈ آف پیس سے فاصلہ اختیار کیا ہے۔ کینیڈا کو بھی دعوت دی گئی تھی، تاہم صدر ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پیغام کے ذریعے کینیڈین وزیراعظم کو دی گئی دعوت واپس لے لی، جسے سفارتی حلقوں میں غیرمعمولی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔