’کیچ آف دی ڈے‘: صدر ٹرمپ کا مین میں نیا آئی سی ای امیگریشن کریک ڈاؤن
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے شمال مشرقی ریاست مین میں امیگریشن کے خلاف ایک نئی اور وسیع کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جسے “آپریشن کیچ آف دی ڈے” کا نام دیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق یہ چھاپے 21 جنوری سے شروع کیے گئے، جبکہ ان کا باضابطہ اعلان بدھ کے روز کیا گیا۔ٹرمپ انتظامیہ کے ترجمان کے بیان سے عندیہ ملتا ہے کہ مین کو نشانہ بنانا سیاسی نوعیت کا فیصلہ ہے، جس کا تعلق ریاست کی ڈیموکریٹک گورنر جینیٹ ملز کے ساتھ صدر کے دیرینہ اختلافات سے جوڑا جا رہا ہے۔ محکمہ داخلی سلامتی کی ترجمان ٹریشیا میک لافلن نے الزام عائد کیا کہ گورنر ملز اور دیگر “سینکچوئری سیاست دان” قانون پسند امریکی شہریوں کے بجائے “غیر قانونی مجرم تارکین وطن” کا ساتھ دے رہے ہیں۔تاہم، مقامی سطح پر یہ خدشات بھی سامنے آئے ہیں کہ اس کارروائی کا ایک سبب مین میں آباد صومالی نژاد امریکی آبادی ہے، جو خاص طور پر پورٹ لینڈ اور لیوسٹن شہروں میں رہائش پذیر ہے۔ اندازوں کے مطابق ریاست میں صومالی امریکیوں کی تعداد تقریباً تین ہزار ہے۔ صدر ٹرمپ ماضی میں متعدد مواقع پر صومالی کمیونٹی کے خلاف متنازع اور نسل پرستانہ بیانات دے چکے ہیں، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں نے شدید تنقید کی ہے۔ادھر، امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق “آپریشن کیچ آف دی ڈے” کے تحت اب تک 50 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جبکہ تقریباً 1,400 افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ حکام نے چند گرفتار افراد کو “انتہائی خطرناک” قرار دیتے ہوئے ان پر سنگین جرائم کے الزامات عائد کیے ہیں، اگرچہ بعض مقدمات میں سزا کی تصدیق نہیں ہو سکی۔