پاکستانی نژاد امریکی ماہنور احمد ڈو پیج کاؤنٹی بورڈ کے انتخابی میدان میں، ڈسٹرکٹ 2 سے امیدواری کا اعلان
پاکستانی نژاد امریکی رہنما ماہنور احمد نے ڈو پیج کاؤنٹی بورڈ کے ڈسٹرکٹ 2 کی نشست کے لیے باقاعدہ طور پر اپنی امیدواری کا اعلان کر دیا ۔ وہ اس سے قبل 2024 میں ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی کے لیے امریکی رکن کانگریس شان کاسٹن کے خلاف بھی انتخاب لڑ چکی ہیں۔
ماہنور احمد عوامی خدمت کا طویل تجربہ رکھتی ہیں اور ڈو پیج کاؤنٹی کے تمام طبقات کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر وہ منتخب ہوئیں تو خاندانوں، بزرگوں، نوجوانوں اور ضرورت مند افراد کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح بنائیں گی۔ ولا پارک، الینوائے میں منعقدہ ایک تقریب میں پچاس سے زائد افراد نے شرکت کی، جہاں ماہنور احمد نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈو پیج کاؤنٹی بورڈ ڈسٹرکٹ 2 کے لیے انتخاب لڑنے کا میرا مقصد انصاف، مواقع اور ہمدردی پر مبنی ایک مضبوط کمیونٹی کی تعمیر ہے۔ یہ صرف ایک انتخابی مہم نہیں بلکہ ایک عوامی تحریک ہے جو آپ جیسے لوگوں سے طاقت حاصل کر رہی ہے۔ماہنور احمد نے کہا کہ وہ بلوچستان، پاکستان سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ والدین کی بیٹی ہیں جو امریکی خواب پر یقین رکھتے ہوئے امریکہ آئے۔انہوں نے کہا کہ میرے والدین نے مجھے سکھایا کہ تعلیم اور خدمت کے ذریعے دوسروں کی زندگی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ لویولا یونیورسٹی اور پرڈیو یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں نے صحتِ عامہ کے شعبے میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا، جہاں میرا فوکس ہمیشہ خاندانوں کے تحفظ، علاج تک رسائی اور کسی کو نظرانداز نہ ہونے دینے پر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اسی جذبے اور لگن کے ساتھ عوامی عہدے کے لیے میدان میں اتری ہیں، تاہم آج وہ امریکی خواب جسے ان کے والدین نے عزیز رکھا، نہ صرف واشنگٹن بلکہ ڈو پیج کاؤنٹی میں بھی خطرے سے دوچار ہے۔ماہنور احمد نے زور دیا کہ انصاف، احتساب اور شفافیت کی جدوجہد کانگریس تک محدود نہیں بلکہ اس کا آغاز مقامی سطح پر پارکوں، اسکولوں، محلوں اور بورڈ رومز سے ہوتا ہے۔انہوں نے اسکولوں میں ذہنی صحت کے پروگراموں کے فروغ پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈو پیج کاؤنٹی میں 10 سے 14 سال کی عمر کے بچوں میں خودکشی موت کی دوسری بڑی وجہ بن چکی ہے، جس کے پیش نظر کاؤنٹی حکومت کو بروقت مداخلت کرنی چاہیے۔ ماہنور احمد ہر اسکول میں ذہنی صحت کے تصور کی حامی ہیں اور ایسے نگہداشت ماڈل کی وکالت کرتی ہیں جو بحران کے بعد ردعمل کے بجائے روک تھام اور انسانی وقار پر مبنی ہو۔انہوں نے کہا کہ ان کے انتخابی منشور میں تمام رہائشیوں کے لیے ذہنی صحت کی سہولیات تک آسان اور منصفانہ رسائی شامل ہے، کیونکہ موجودہ نظام نہایت پیچیدہ ہے اور اکثر اسے نظرانداز کیا جاتا ہے۔ صحت عامہ کی ڈائریکٹر کے طور پر اپنے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ ایسے نظامی مسائل سے نمٹنے کا عزم رکھتی ہیں جو منافع کو انسانوں پر ترجیح دیتے ہیں، تاکہ صحت کی سہولیات محنت کش خاندانوں کے لیے سستی اور قابلِ رسائی بن سکیں۔