ٹینیسی کے شہر میمفس میں وفاقی جیوری نے ایک شخص کو تین بینک ڈکیتیوں اور ایک ناکام بینک ڈکیتی میں مجرم قرار دے دیا۔
استغاثہ کے مطابق اس واقعے میں ملزم نے اسالٹ رائفل کے ذریعے دو افراد کو گولی مار کر زخمی کیا۔ یہ فیصلہ جمعہ کے روز سنایا گیا، اور یہ اسی مقدمے میں نامزد آٹھ ملزمان میں آخری تھا، جن میں سے تمام کو اب یا تو اعترافِ جرم یا ٹرائل کے ذریعے سزا ہو چکی ہے۔عدالتی کارروائی میں ثابت ہوا کہ 45 سالہ ماریو پیٹرسن نے اپریل 2023 سے دسمبر 2023 کے درمیان اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر میمفس کے مختلف علاقوں میں بینک ڈکیتیوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد کیا۔ اس گروہ نے مجموعی طور پر پانچ بینک برانچز کو نشانہ بنایا اور ایک ہی بینک کو دو بار لوٹنے کی بھی کوشش کی۔ ہر واردات کے دوران پیٹرسن مسلح تھا، جبکہ ایک ڈکیتی میں اس نے بلٹ پروف جیکٹ پہن کر بینک عملے پر رائفل تان لی۔استغاثہ کے مطابق ایک ناکام ڈکیتی کے دوران پیٹرسن نے اسالٹ رائفل سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے، جبکہ دیگر وارداتوں میں اس کے ساتھی ہزاروں ڈالر لوٹنے میں کامیاب ہوئے۔ مجموعی طور پر اس گروہ نے میمفس کے بینکوں سے ایک لاکھ ساٹھ ہزار ڈالر سے زائد رقم چرائی، جس سے بینک ملازمین اور شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔عدالت نے پیٹرسن کی سزا کی تاریخ 24 اپریل مقرر کی ہے۔ اس کے تین ساتھیوں کو گزشتہ برس مختلف سزائیں سنائی جا چکی ہیں، جن میں 17 سال، 16 سال اور 12 سال قید شامل ہے، جبکہ دیگر چار ملزمان کو رواں سال کے دوران سزا سنائے جانے کا امکان ہے۔