صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے، جس کے دوران امریکی تاریخ میں داخلی اور خارجی پالیسی کے حوالے سے غیر معمولی اور تیز رفتار تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔
20 جنوری 2025 کو حلف برداری کے فوراً بعد ٹرمپ نے خود کو “امریکا کا سنہرا دور” شروع کرنے والا صدر قرار دیا اور ابتدائی چند گھنٹوں میں ہی دو سو سے زائد ایگزیکٹو احکامات جاری کیے، جن میں سابق صدر جو بائیڈن کے درجنوں فیصلوں کی منسوخی اور کیپیٹل ہل حملے میں سزا پانے والے افراد کو معاف کرنا بھی شامل تھا۔خارجہ پالیسی میں ٹرمپ نے “طاقت کے ذریعے امن” کے نعرے کے تحت یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور لاطینی امریکا میں جارحانہ حکمتِ عملی اپنائی۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی ان کے بڑے سفارتی دعووں میں شامل رہی، تاہم یوکرین جنگ ختم کرنے کا انتخابی وعدہ پورا نہ ہو سکا۔ گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی خواہش اور یورپی اتحادیوں سے بڑھتی کشیدگی نے نیٹو تعلقات کو بھی دباؤ میں ڈال دیا، جبکہ وینزویلا میں براہِ راست کارروائیوں پر ڈیموکریٹس کی جانب سے سخت سوالات اٹھائے گئے۔امیگریشن کے محاذ پر ٹرمپ انتظامیہ نے سخت ترین کریک ڈاؤن کیا، جس کے نتیجے میں پچاس برس بعد پہلی بار امریکا میں منفی نیٹ مائیگریشن رپورٹ ہوئی۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق چھ لاکھ سے زائد افراد کو ملک بدر کیا گیا، جبکہ آئی سی ای کی کارروائیوں پر ملک بھر میں احتجاج اور قانونی چیلنجز سامنے آئے۔ عوامی رائے عامہ میں بھی امیگریشن نفاذ کے طریقۂ کار پر واضح تقسیم دیکھی گئی۔معاشی سطح پر وسیع ٹیرف پالیسی، وفاقی اداروں میں کٹوتیاں اور محکمہ حکومتی کارکردگی (DOGE) کے ذریعے اصلاحات ٹرمپ ایجنڈے کا نمایاں حصہ رہیں۔ اگرچہ وائٹ ہاؤس نے تجارتی معاہدوں اور مینوفیکچرنگ بحالی کے دعوے کیے، مگر مہنگائی، روزگار کی سست رفتاری اور عوامی اخراجات میں اضافے نے انتظامیہ کو دباؤ میں رکھا۔سرویز کے مطابق بیشتر اہم معاملات پر صدر کو اکثریتی عوامی حمایت حاصل نہیں، اور آئندہ وسط مدتی انتخابات ٹرمپ کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک بڑا امتحان سمجھے جا رہے ہیں۔