vosa.tv
Voice of South Asia!

سانحہ گُل پلازہ، آگ بجھ گئی لیکن تپش باقی!

0

کراچی(رپورٹ: علی عباس) کراچی کی ایم اے جناح روڈ پر گل پلازہ میں لگی آگ پر دو روز بعد قابو تو پالیا گیا لیکن اس سانحہ میں جاں بحق اور تاحال لاپتہ افراد کے لواحقین کے سینے میں لگی آگ شاید ہی کبھی بجھ سکے۔

ایم اے جناح روڈ پر انیس سو اسی کی دہائی میں تعمیر یہ تجارتی عمارت گل پلازہ ہزاروں افراد کے روزگار کا ذریعہ تھی لیکن تین روز قبل رات کے وقت اس میں جو آگ لگی وہ ان سب کے گھر کے چولہے ٹھنڈے کر گئی۔ آگ بجھانے کے لیے بڑی دکانوں پاس آلات تھے لیکن شدت اتنی تیزی سے بڑھتی گئی کہ کچھ کام نہیں آیا۔ امدادی سرگرمیاں اب بھی جاری ہیں۔ عمارت میں کئی مقام سے اٹھتا ہوا دھواں بتا رہا ہے کہ راکھ کے اس ڈھیر میں کسی کا کچھ نہیں بچا۔ بہت سے دکانداروں کو خدشہ ہے کہ یہ آتشزدگی صرف شارٹ سرکٹ نہیں۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ چند منٹوں میں پورا پلازہ کیسے آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ حکومت شفاف انکوائری اور نقصانات کا ازالہ کرے۔المناک سانحہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 27 ہو گئی تاہم حکومتی فہرست کے مطابق 75 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ہولناک آگ پر بالآخر دو روز بعد قابو پا لیا گیا لیکن اس کی تپش باقی ہے۔ بظاہر تو کسی کے زندہ بچ جانے کی امید نہیں لیکن لواحقین یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کے پیاروں کی کچھ خبر مل جائے۔صوبائی حکومت نے سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو فی کس ایک ایک کروڑ روپے کی امداد دینے، عمارت کی دوبارہ تعمیر اور تاجروں کے نقصان کا ازالہ کرنے کا اعلان تو کیا ہے لیکن شہر بھر میں رہائشی اور کمرشل عمارتوں میں ہنگامی صورتحال میں نکلنے کے محفوظ راستے اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے ابھی بہت سے اقدامات کرنا باقی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.