کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ پر ہونے والا المناک حادثہ شہر کی تاریخ کے دلخراش ترین سانحات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ملبے تلے دبی زندگیاں، بکھری ہوئی امیدیں اور سوگ میں ڈوبے خاندان آج بھی اس قیامت خیز لمحے کو فراموش نہیں کر پا رہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق اب تک 26 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ تقریباً 75 افراد تاحال لاپتا ہیں، جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ بھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں۔
ریسکیو ٹیمیں مسلسل ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں، مگر ہر گزرتے لمحے کے ساتھ امید کم اور درد بڑھتا جا رہا ہے۔ کئی خاندان اپنے پیاروں کی ایک جھلک یا کسی خبر کے انتظار میں موقع پر موجود ہیں، آنکھوں میں سوال اور چہروں پر گہرا صدمہ نمایاں ہے۔۔ ملبے سے ملنے والی انسانی باقیات اس قدر مسخ ہو چکی ہیں کہ فوری شناخت ممکن نہیں، اسی لیے ڈی این اے ٹیسٹنگ کے ذریعے شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ مرحلہ نہ صرف تکنیکی طور پر پیچیدہ ہے بلکہ متاثرہ خاندانوں کے لیے ذہنی اور جذباتی اذیت کا باعث بھی بن رہا ہے۔گل پلازہ، جو کبھی خریداری اور کاروباری سرگرمیوں کا مرکز سمجھا جاتا تھا، آج ملبے، خاموشی اور آہوں کی تصویر بن چکا ہے۔ متاثرہ دکان دار، ملازمین اور خریدار سب ہی اس سانحے کی زد میں آئے۔ عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے وقت ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی، لوگ ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش کرتے رہے مگر چند لمحوں میں سب کچھ ختم ہو گیا یہ سانحہ صرف جانوں کے ضیاع تک محدود نہیں بلکہ ان خوابوں کی موت بھی ہے جو برسوں کی محنت سے اس عمارت میں بسائے گئے تھے۔ دکاندار اپنی زندگی بھر کی کمائی ملبے تلے دبی دیکھ کر نڈھال ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں کے لیے یہ زخم شاید کبھی نہ بھر سکے۔متاثرہ خاندان حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ سرچ آپریشن کو مزید تیز کیا جائے، شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کا تعین کر کے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ گل پلازہ کا سانحہ صرف ایک عمارت کے گرنے کا واقعہ نہیں، بلکہ یہ حفاظتی نظام، نگرانی اور انسانی جانوں کی قدر پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔