امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے مطابق ٹیکساس کے ایل پاسو میں واقع کیمپ ایسٹ مونٹانا حراستی مرکز میں زیرِ حراست ایک اور شخص ہلاک ہو گیا ہے، جو دو ہفتوں کے دوران اس مرکز میں پیش آنے والی دوسری ہلاکت ہے۔
نکاراگوا سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ وکٹر مینوئل ڈیاز 14 جنوری کو اپنے کمرے میں بے ہوش پائے گئے، جنہیں فوری طبی امداد دی گئی تاہم جان نہ بچائی جا سکی۔ آئی سی ای کا کہنا ہے کہ واقعہ بظاہر خودکشی کا ہے، تاہم موت کی حتمی وجہ کی تفتیش جاری ہے۔آئی سی ای کے مطابق ڈیاز کو 6 جنوری کو منی سوٹا میں ٹرمپ انتظامیہ کی متنازعہ ملک بدری مہم کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ وہ مارچ 2024 میں میکسیکو سرحد کے راستے امریکہ داخل ہوئے تھے اور بعد ازاں عدالت میں عدم حاضری پر ان کی ملک بدری کا حکم جاری ہوا۔ 12 جنوری کو انہیں ملک بدر کرنے کے لیے دوبارہ حراست میں لیا گیا تھا، جبکہ یہ وسیع خیمہ نما مرکز فورٹ بلس فوجی اڈے پر قائم ہے۔اسی مرکز میں 3 جنوری کو کیوبا سے تعلق رکھنے والے 55 سالہ جیرالڈو لوناس کامپوس کی بھی ہلاکت ہوئی تھی۔ مقامی میڈیکل ایگزامنر کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ان کی موت گردن اور سینے پر دباؤ کے باعث دم گھٹنے سے ہوئی، جس پر ممکنہ قتل کی تفتیش جاری ہے۔ عینی شاہدین نے الزام لگایا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں قابو میں لیتے ہوئے تشدد کیا، جبکہ حکام نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ قیدی نے خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس آئی سی ای کی حراست میں 32 افراد ہلاک ہوئے، جو گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے زیادہ ہیں، جبکہ رواں برس اب تک کم از کم پانچ ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔