امریکی ریاست اوریگون میں ایک بھارتی شہری کو روس کو حساس آلات غیر قانونی طور پر برآمد کرنے کی سازش کے الزام میں سزا سنا دی گئی ہے۔
دہلی سے تعلق رکھنے والے 58 سالہ سنجے کوشک کو وفاقی عدالت نے 30 ماہ قید اور رہائی کے بعد 36 ماہ نگرانی میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق سنجے کوشک نے ستمبر 2023 سے دیگر افراد کے ساتھ مل کر امریکہ سے کنٹرول شدہ ایوی ایشن ٹیکنالوجی اور نیویگیشن و فلائٹ کنٹرول سسٹم روسی اداروں تک پہنچانے کی منصوبہ بندی کی۔ یہ سامان بظاہر ان کی بھارتی کمپنی کے لیے خریدا گیا، مگر درحقیقت اسے بھارت کے راستے روسی صارفین تک بھیجنا مقصود تھا۔ایک کیس میں اوریگون کی ایک کمپنی سے ایٹیٹیوڈ اینڈ ہیڈنگ ریفرنس سسٹم (AHRS) خریدا گیا، جو طیاروں میں نیویگیشن اور فلائٹ کنٹرول ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔ اس نوعیت کے آلات روس جیسے ممالک کو برآمد کرنے کے لیے امریکی محکمۂ تجارت کا خصوصی لائسنس درکار ہوتا ہے، تاہم ملزمان نے غلط بیانی سے یہ ظاہر کیا کہ یہ پرزہ بھارتی کمپنی کے لیے اور سول ہیلی کاپٹر میں استعمال ہوگا۔امریکی حکام کے مطابق یہ محض غلطی نہیں بلکہ منافع کے لیے کیا گیا ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا، جس میں بار بار لین دین، بھاری مالی فائدہ اور روسی پابندی زدہ اداروں کے ساتھ رابطہ شامل تھا۔ سنجے کوشک کو اکتوبر 2024 میں میامی سے گرفتار کیا گیا تھا اور وہ تب سے حراست میں تھے، جبکہ اکتوبر 2025 میں انہوں نے جرم قبول کیا۔ امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ قومی سلامتی سے جڑی برآمدی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔