vosa.tv
Voice of South Asia!

آئی سی ای فائرنگ کیس، امریکی محکمۂ انصاف کا تحقیقات سے انکار

0

امریکی محکمۂ انصاف نے اعلان کیا ہے کہ وہ منی سوٹا میں آئی سی ای ایجنٹ کی جانب سے رینی گڈ کی ہلاکت پر کسی قسم کی وفاقی تحقیقات شروع نہیں کرے گا، حالانکہ اس واقعے پر ملک بھر میں شدید عوامی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے فوکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ہر اس واقعے پر تحقیقات نہیں کی جاتیں جہاں کسی افسر نے اپنے دفاع کا دعویٰ کیا ہو۔رینی نکول میکلن گڈ، جو تین بچوں کی ماں تھیں، 7 جنوری کو سینٹ پال میں احتجاج کے دوران اپنی گاڑی میں بیٹھی تھیں جب آئی سی ای افسر جوناتھن راس نے ان پر فائرنگ کی۔ حکام کا مؤقف ہے کہ افسر نے خود دفاع میں کارروائی کی، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ امیگریشن نفاذ کے دوران آئی سی ای اہلکاروں کو مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے۔تاہم منی سوٹا پبلک ریڈیو اور اے پی ایم رپورٹس کی تحقیقات میں کئی سوالات سامنے آئے ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ فائرنگ کے بعد رینی گڈ کو سی پی آر دینے میں دس منٹ سے زائد تاخیر کیوں ہوئی۔ رپورٹس کے مطابق اہلکاروں نے زخمی خاتون کو کچھ دیر گاڑی میں تنہا چھوڑے رکھا اور ایک ایسے شخص کو بھی مدد سے روکا جو خود کو ڈاکٹر بتا رہا تھا۔دوسری جانب، محکمۂ انصاف نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ منی سوٹا کے گورنر ٹِم والز اور منی ایپولس کے میئر جیکب فری کے خلاف ممکنہ تحقیقات پر غور کر رہا ہے، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے آئی سی ای کے خلاف مظاہروں کی حوصلہ افزائی کی۔ دونوں ڈیموکریٹ رہنماؤں نے ان الزامات کو سیاسی دباؤ اور عدالتی نظام کے غلط استعمال سے تعبیر کیا ہے، جبکہ رینی گڈ کے اہلِ خانہ نے اپنی سطح پر سول تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.