غزہ کی پٹی میں جاری انسانی بحران کے تناظر میں اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی کے باعث امدادی سرگرمیاں اور تعمیرِ نو کا عمل غیر معمولی مشکلات سے دوچار ہے، جبکہ صرف ملبہ ہٹانے کا مرحلہ ہی کئی برسوں پر محیط ہو سکتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے خدماتِ منصوبہ جات کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر خورخی مورینا دا سلوا کے مطابق غزہ میں ملبے کی مجموعی مقدار 6 کروڑ ٹن سے تجاوز کر چکی ہے، جسے مکمل طور پر صاف کرنے میں کم از کم سات سال یا اس سے بھی زیادہ وقت درکار ہو سکتا ہے۔ حالیہ دورۂ غزہ کے بعد جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ علاقے میں انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے، جہاں عوام شدید تھکن، نفسیاتی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہیں، جبکہ خراب موسم اور موسلا دھار بارشوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً 20 لاکھ افراد کی بحالی کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں، جن میں محفوظ پناہ گاہوں کی فراہمی، ایندھن کی دستیابی اور ملبہ ہٹانے کے منظم عمل کا آغاز شامل ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں موجود ملبہ تقریباً تین ہزار کنٹینر بردار بحری جہازوں کے مجموعی وزن کے برابر ہے، جبکہ ہر شہری اوسطاً 30 ٹن ملبے میں گھرا ہوا ہے۔اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے اندازوں کے مطابق غزہ میں رہائشی علاقوں، بنیادی ڈھانچے اور ضروری خدمات کو بے مثال نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث تعمیرِ نو کی ضروریات بھی غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے سیٹلائٹ تجزیاتی پروگرام کے مطابق 8 جولائی 2025 تک غزہ میں 78 فیصد عمارتیں اور تنصیبات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔رپورٹ کے مطابق متاثرہ ڈھانچوں میں 4 لاکھ 36 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس شامل ہیں، جو غزہ کے مجموعی گھروں کا تقریباً 92 فیصد بنتے ہیں، جبکہ 77 فیصد سڑکیں ناقابلِ استعمال ہو چکی ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف شہریوں کی روزمرہ نقل و حرکت کو شدید متاثر کیا ہے بلکہ امدادی اداروں کے لیے متاثرہ علاقوں تک رسائی بھی انتہائی مشکل بنا دی ہے۔