الینوائے میں کانگریسی امیدواروں کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کی خصوصی تقریب
الینوائے مسلم ایکشن نیٹ ورک کے زیرِ اہتمام کانگریس کے امیدوار ڈوناوان میک کینی اور امریکی کانگریس کی رکن راشدہ طلیب کے لیے انتخابی فنڈ اکٹھا کرنے کے مقصد سے ظہرانے کا انعقاد کیا گیا۔
یہ تقریب شازیہ احمد خان کی ساوتھ بیرنگٹن، الینوائے میں واقع رہائش گاہ پر منعقد ہوئی، جس میں سو سے زائد افراد نے شرکت کی۔تقریب کا مقصد مشی گن کے 13ویں کانگریشنل ڈسٹرکٹ سے امیدوار ڈوناوان میک کینی کی انتخابی مہم کی حمایت اور کانگریس وومن راشدہ طلیب کے دوبارہ انتخاب کے لیے فنڈ ریزنگ تھا۔ اس موقع پر امریکا کی پہلی مسلم کانگریس وومن راشدہ طلیب نے میک کینی کو ایک “حقیقی پارٹنر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کو ایسے نمائندوں کی ضرورت ہے جو ماحولیاتی انصاف اور کمیونٹی پر مبنی قانون سازی کے لیے مضبوط آواز بن سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ترقی پسند تنظیم جسٹس ڈیموکریٹس بھی میک کینی کی مہم کی حمایت کر رہی ہے۔ڈوناوان میک کینی نے خطاب کرتے ہوئے معقول اجرت کی اہمیت پر زور دیا اور رہائش، گروسری اور پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تنقید کی۔ مقررین نے یونین کے حقوق مضبوط بنانے، ملازمین کو بہتر اجرت کے لیے اجتماعی جدوجہد کی ترغیب دینے اور واشنگٹن میں “بڑے پیسے” اور لابیز کے اثر و رسوخ کی مخالفت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے واضح کیا کہ وہ کارپوریٹ پی اے سی کی فنڈنگ کو مسترد کرتے ہیں اور عوامی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دیتے ہیں۔تقریب میں ماحولیاتی مسائل بھی زیرِ بحث آئے، جہاں میک کینی نے صاف ہوا اور صاف پانی کے لیے جدوجہد کو اپنی مہم کا اہم حصہ قرار دیا، خاص طور پر ان پسماندہ علاقوں میں جو صنعتی آلودگی اور ماحولیاتی نسل پرستی سے متاثر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیکیئر فار آل، میڈیکیڈ اور ایس این اے پی جیسے سماجی تحفظ کے پروگراموں کے دفاع، فوجداری نظامِ انصاف میں اصلاحات، پارکوں اور لائبریریوں کے لیے فنڈنگ میں اضافے اور مضبوط و معیاری پبلک ٹرانزٹ سسٹم کے قیام کی حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا۔راشدہ طلیب نے اس بات پر زور دیا کہ کانگریس میں ایسے حقیقی شراکت دار کی ضرورت ہے جو مقامی مسائل کو ترجیح دے اور حلقہ بندیوں کی کالز اور عوامی مسائل کا بروقت جواب دے۔ ڈوناوان میک کینی نے کہا کہ ان کے ضلع کو ایک مضبوط اور قابل قیادت کی ضرورت ہے کیونکہ واشنگٹن میں ہونے والے فیصلے براہِ راست مقامی کمیونٹیز کو متاثر کرتے ہیں، اور عوام اپنے منتخب نمائندوں سے قیادت اور مؤثر آواز کی توقع رکھتے ہیں۔