امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر کالباساس سے تعلق رکھنے والے جیسن نوآہ فائن مین نے غیرقانونی آف شور جوئے کا کاروبار چلانے، منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کے الزامات میں عدالت میں جرم تسلیم کر لیا ہے۔
امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق ملزم نے کوسٹا ریکا میں قائم ایک کاروبار کے ذریعے ایسی ویب سائٹس چلائیں جن کے ذریعے بغیر لائسنس جوئے کی سرگرمیاں جاری تھیں، جن میں کیلیفورنیا میں مقیم صارفین بھی شامل تھے، جو ریاستی اور وفاقی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق فائن مین نے اپنے غیرقانونی کاروبار سے حاصل ہونے والی نقد رقم کو مختلف طریقوں سے وائٹ کیا۔ مئی 2018 سے جنوری 2024 کے دوران اس نے ایک صارف کو 15 لاکھ ڈالر سے زائد نقد رقم دی اور اس کے بدلے اپنے نام یا اپنی کمپنیوں کے نام پر چیک وصول کیے۔ مجموعی طور پر اس نے 15 لاکھ سے 35 لاکھ ڈالر تک کی نقد رقم کو چیکس کے ذریعے قانونی شکل دینے کی کوشش کی۔محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ 2018 سے 2022 کے دوران فائن مین نے اپنے غیرقانونی جوئے کے کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدن ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہیں کی اور تقریباً 41 لاکھ 98 ہزار ڈالر کی آمدن حکومت سے چھپائی۔ 2020 میں 18 لاکھ ڈالر کمانے کے باوجود اس نے کوئی قابلِ ٹیکس آمدن ظاہر نہیں کی، جس کے نتیجے میں امریکی حکومت کو 15 لاکھ 24 ہزار ڈالر سے زائد کا ٹیکس نقصان پہنچا۔ملزم کو 12 مئی کو سزا سنائے جانے کا امکان ہے، جہاں اسے منی لانڈرنگ کے جرم میں زیادہ سے زیادہ 10 سال اور ٹیکس چوری و غیرقانونی جوئے کے الزامات میں پانچ، پانچ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ حتمی سزا کا فیصلہ وفاقی جج امریکی سزائی رہنما اصولوں اور دیگر قانونی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کرے گا۔