امریکا کا پاکستان سمیت 74 ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ معطل کرنے کا فیصلہ
امریکا نے پاکستان سمیت 74 دیگر ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ 21 جنوری 2026 سے معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ اس تشویش کے باعث کیا گیا ہے کہ ان ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن بڑی تعداد میں سرکاری فلاحی پروگراموں پر انحصار کرتے ہیں، جس سے امریکی ٹیکس دہندگان پر بوجھ پڑتا ہے۔اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک حکام اس بات کو یقینی نہیں بنا لیتے کہ نئے آنے والے تارکینِ وطن عوامی وسائل پر انحصار نہیں کریں گے۔ حکام نے اس اقدام کو موجودہ انتظامیہ کی “امریکا فرسٹ” پالیسی کا حصہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکی عوام کی سخاوت کا غلط استعمال اب برداشت نہیں کیا جائے گا۔اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ کے مطابق ادارہ اپنے دیرینہ اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایسے ممکنہ تارکینِ وطن کو نااہل قرار دے گا جو امریکا پر “پبلک چارج” بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان 74 ممالک سے امیگریشن کو عارضی طور پر روکا جا رہا ہے تاکہ ویزا پراسیسنگ کے طریقۂ کار کا ازسرِنو جائزہ لیا جا سکے اور فلاحی سہولیات کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔اس فیصلے سے متاثرہ ممالک میں پاکستان، صومالیہ، ہیٹی، ایران، اریٹیریا، افغانستان اور بنگلہ دیش شامل ہیں، جبکہ ملازمت، اور ڈائیورسٹی ویزا سمیت تمام امیگرنٹ ویزا کیٹیگریز اس پابندی کی زد میں آئیں گی۔ اس معطلی کے باعث ہزاروں پاکستانیوں کے سفر، تعلیم اور روزگار کے منصوبوں میں تاخیر کا خدشہ ہے، جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جائزہ مکمل ہونے پر متعلقہ ممالک کو آگاہ کر دیا جائے گا۔