امریکا کی دواساز کمپنی اٹلانٹک بایولوجیکلز کارپوریشن نے اوپیئڈ ادویات کی غیرقانونی تقسیم کے مقدمے میں امریکی محکمۂ انصاف کے ساتھ دو سالہ ڈیفرڈ پراسیکیوشن معاہدہ کر لیا ہے۔
میامی میں قائم اس فارماسیوٹیکل ہول سیلر پر الزام تھا کہ اس نے ہیوسٹن، ٹیکساس میں قائم نام نہاد “پِل مِل” فارمیسیوں کو جان بوجھ کر نشہ آور اوپیئڈ گولیاں فراہم کیں، جو بعد ازاں غیرقانونی استعمال اور بلیک مارکیٹ میں فروخت ہوئیں۔عدالتی دستاویزات کے مطابق کمپنی کے بزنس یونٹ نیشنل اپوتھیکری سلوشنز نے 2017 سے مئی 2023 کے دوران اوکسی کوڈون، ہائیڈروکوڈون اور ہائیڈرو مورفون سمیت کروڑوں نشہ آور گولیاں فروخت کیں، جبکہ دیگر ادویات بھی شامل تھیں جو نشے کے اثرات بڑھانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ کمپنی نے اعتراف کیا کہ ان فروختوں سے اسے کم از کم 25 لاکھ ڈالر سے زائد کی آمدن ہوئی، حالانکہ اسے معلوم تھا کہ یہ ادویات طبی ضابطوں کے خلاف استعمال کی جا رہی ہیں۔ یہ یونٹ نومبر 2025 میں بند کر دیا گیا تھا۔حکام کے مطابق کمپنی نے مبینہ طور پر کمپلائنس کے کچھ ضابطے تو بنائے، مگر انہیں خود ہی نظرانداز کیا گیا تاکہ غیرقانونی فروخت جاری رکھی جا سکے۔ فارمیسیوں میں مشتبہ آرڈرنگ پیٹرنز، غیر معمولی قیمتیں، محدود اقسام کی ادویات، اور ایسی علامات سامنے آئیں جو منشیات کی غیرقانونی تقسیم کی نشاندہی کرتی تھیں۔معاہدے کے تحت اٹلانٹک بایولوجیکلز کو 4 لاکھ 50 ہزار ڈالر جرمانہ ادا کرنا ہوگا، محکمۂ انصاف کے ساتھ مکمل تعاون کرنا ہوگا اور مستقبل میں کنٹرولڈ سبسٹینسز ایکٹ کی خلاف ورزی روکنے کے لیے سخت کمپلائنس اور اخلاقی پروگرام نافذ کرنا ہوں گے۔