حالیہ ٹرمپ دور میں اب تک 1 لاکھ سے زائد غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ
امریکا میں ٹرمپ کے امریکی صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد سے اب تک ایک لاکھ سے زائد غیر ملکی شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں، جن میں تقریباً 8 ہزار طلبہ کے ویزے بھی شامل ہیں، جبکہ 2 ہزار 500 ویزے ایسے افراد کے ہیں جن پر کسی نہ کسی صورت میں امریکی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔
یہ انکشاف امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری سرکاری معلومات میں سامنے آیا ہے۔امریکی حکام کے مطابق ویزا منسوخی کی یہ کارروائیاں ایسے غیر ملکیوں کے خلاف کی جا رہی ہیں جن کے مجرمانہ ریکارڈ، گرفتاریوں، عدالتی سزاؤں یا دیگر قانونی خلاف ورزیوں کے شواہد موجود ہیں۔ محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ویزا منسوخی اور ملک بدری کا عمل مزید سخت کیا جا رہا ہے۔محکمہ خارجہ نے پیر کے روز اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں واضح کیا کہ امریکا کو محفوظ رکھنے کے لیے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امیگریشن قوانین میں سختی کے بعد ویزا ہولڈرز کی امریکا میں داخلے کے بعد بھی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی قانونی خلاف ورزی کی فوری نشاندہی کی جا سکے۔منسوخ کیے گئے ویزوں میں سیاحتی، تعلیمی، ہنرمند ورک ویزے اور دیگر نان امیگرنٹ کیٹیگریز شامل ہیں۔ اس پالیسی تبدیلی سے بھارت سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، کیونکہ بھارتی شہری امریکا کے ویزا ہولڈرز کی بڑی تعداد رکھتے ہیں۔امریکی سفارت خانے کے مطابق اگرچہ بھارت کو مسلسل دوسرے سال ایک ملین سے زائد نان امیگرنٹ ویزے جاری کیے گئے، تاہم 2025 میں بھارتی طلبہ کے لیے ویزوں کے اجرا میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سخت اسکریننگ، طویل انٹرویو مراحل اور جانچ کے سخت معیار اس کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔اس کے علاوہ ایچ ون بی جیسے ورک ویزوں پر موجود بھارتی پیشہ ور افراد کو بھی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، جبکہ نئی ایچ ون بی درخواستوں پر ایک لاکھ ڈالر فیس کی تجویز زیر غور ہے، جسے امریکی عدالتوں میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔