نیویارک میں اسپتالوں میں نرسز کی شدید کمی کے خلاف تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج ریکارڈ ہوا، جہاں ہزاروں نرسز نے کام کے بڑھتے ہوئے دباؤ، کم اجرت اور نئی بھرتیوں میں ناکامی کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ نرسز کی کمی کے باعث اسپتالوں میں مریضوں کی دیکھ بھال متاثر ہو رہی ہے، جو ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔اسٹیٹ نرسز ایسوسی ایشن کے تحت ہزاروں نرسز نے کولمبیا یونیورسٹی کے کیمپس کے باہر دھرنا دیا، جسے نیویارک کی تاریخ میں نرسز کا سب سے بڑا احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔ نرسز کا کہنا تھا کہ عملے کی قلت کے باعث انہیں اضافی شفٹس اور طویل اوقاتِ کار پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس سے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔نرسز ایسوسی ایشن کے مطابق نیویارک اسٹیٹ سے اب تک تقریباً 15 ہزار نرسز ملازمت چھوڑ چکی ہیں، تاہم ان کی جگہ نئی بھرتیاں نہیں کی گئیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اس صورتحال نے اسپتالوں کے پورے نظام کو شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے اور فوری اقدامات نہ کیے گئے تو بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔احتجاج میں شامل نرسز نے مطالبہ کیا کہ اسپتالوں میں فوری طور پر نئی نرسز بھرتی کی جائیں تاکہ کام کا بوجھ کم ہو اور مریضوں کو بہتر اور محفوظ طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ نرسز کا کہنا تھا کہ وہ ایسے مریضوں کے ساتھ طویل وقت گزارتی ہیں جن کے اہلِ خانہ بھی ان سے ملاقات کے لیے نہیں آتے، اس کے باوجود انہیں ان خدمات کے عوض انتہائی کم اجرت دی جا رہی ہے۔