vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکا میں احتجاج شدت اختیار کر گیا، منیاپولس میں وفاقی کارروائیاں تیز

0

امریکا میں امیگریشن افسر کے ہاتھوں خاتون کی ہلاکت کے بعد مظاہرے بڑھ گئے ہیں۔ حالات کے پیشِ نظر محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے منیاپولس میں مزید وفاقی اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ کارروائی اب تک کی سب سے بڑی امیگریشن انفورسمنٹ آپریشن قرار دی جا رہی ہے، جس کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں گھر گھر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔اتوار کے روز ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے اعلان کیا کہ شہر میں “سینکڑوں مزید” وفاقی ایجنٹس بھیجے جا رہے ہیں۔ جیسے ہی چھاپوں کا آغاز ہوا، مظاہرین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مسلح اہلکاروں کا راستہ روکنے کی کوشش کی، گاڑیوں کے ہارن بجائے، ڈھول اور سیٹیاں بجائیں۔ بعض مقامات پر دھکم پیل ہوئی اور کیمیکل اسپرے کے استعمال کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس کے بعد ایک شخص کو حراست میں لے لیا گیا۔حکام کے مطابق ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں میں 30 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ ایک پولیس افسر زخمی ہوا۔ منیاپولس کے میئر جیکب فرے نے کہا کہ مظاہرین کی اکثریت پُرامن رہی، تاہم صورتحال کی سنگینی کے باعث پیر سے سرکاری اسکولوں میں ایک ماہ کے لیے آن لائن تعلیم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ بچوں اور والدین کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔رینی نِکول گُڈ، جو تین بچوں کی ماں اور امریکی شہری تھیں، بدھ کے روز ایک امیگریشن افسر کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئیں۔ اس واقعے کی ویڈیوز سامنے آنے کے بعد امریکا بھر میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ لاس اینجلس، سان فرانسسکو، سالٹ لیک سٹی اور دیگر شہروں میں بھی ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر امیگریشن پالیسیوں اور وفاقی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ریاستی ڈیموکریٹک رہنماؤں اور ٹرمپ انتظامیہ کے بیانات میں واضح تضاد نظر آ رہا ہے۔ میئر فرے نے ایف بی آئی کی تحقیقات میں ریاستی حکام کو شامل نہ کرنے پر وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ دسمبر سے جاری آپریشن کے دوران منی سوٹا میں دو ہزار سے زائد امیگریشن گرفتاریاں کی جا چکی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.