امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے تناظر میں امریکا “انتہائی سخت آپشنز” پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے، جن میں ممکنہ فوجی کارروائی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج اس صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہے اور جلد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔صدر ٹرمپ کے مطابق ایرانی قیادت نے ان سے رابطہ کر کے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے اور ایک ممکنہ ملاقات پر بھی بات ہو رہی ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی ملاقات سے قبل امریکا کو کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔ اس بیان پر ایران کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔دوسری جانب ایران کے اعلیٰ حکام نے فوجی مداخلت کے خلاف سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران پر کسی بھی حملے کی صورت میں اسرائیل اور خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے اور بحری جہاز ایران کے جائز اہداف ہوں گے۔ایران میں احتجاجی مظاہرے 28 دسمبر کو اس وقت شروع ہوئے جب تہران کے گرینڈ بازار کے تاجروں نے ایرانی کرنسی کی شدید گراوٹ کے خلاف دکانیں بند کر دیں۔ یہ مظاہرے بعد ازاں ملک بھر میں پھیل گئے، جہاں مہنگائی اور معاشی بدحالی کے ساتھ ساتھ مذہبی قیادت کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ہنگاموں میں 109 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اپوزیشن ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سینکڑوں مظاہرین بھی شامل ہیں۔