ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ فوجی حملے کی صورت میں اسرائیل کے ساتھ ساتھ خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اس وقت امریکا اور اسرائیل کے خلاف بیک وقت کئی محاذوں پر جنگی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو جواب صرف ایک محاذ تک محدود نہیں رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت معاشی، نفسیاتی، عسکری اور انسدادِ دہشت گردی کے میدان میں دشمنوں کے خلاف برسرِ پیکار ہے، جبکہ عسکری جنگ کا باقاعدہ آغاز جون 2025 میں امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد ہوا۔باقر قالیباف نے الزام عائد کیا کہ عسکری ناکامی کے بعد امریکا نے ایران میں بدامنی پھیلانے اور عوامی احتجاج کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے مسلح دہشت گردی کے خلاف ڈٹ جانے اور قومی سلامتی کے دفاع کا فیصلہ کر لیا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی ذرائع کے مطابق امریکا کی ممکنہ مداخلت کے خدشے کے پیشِ نظر اسرائیل کی فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان حالیہ ٹیلی فونک رابطے میں ایران کی صورتحال پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے منسوب سوشل میڈیا بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران دباؤ اور جارحیت کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا۔ بیان میں اسرائیل کے ساتھ حالیہ جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی صدر پر براہِ راست ذمہ داری عائد کی گئی۔واضح رہے کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے احتجاج اب پُرتشدد صورت اختیار کر چکے ہیں، جن کے حوالے سے ایرانی حکام امریکا اور اسرائیل پر مداخلت کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ دارالحکومت تہران سمیت مختلف شہروں میں جھڑپوں، گرفتاریوں اور انٹرنیٹ بندش کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر خطے میں ممکنہ بڑے تصادم کے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔