امریکا میں پریمیم پروسیسنگ فیس میں اضافہ
امریکی محکمۂ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے اعلان کیا ہے کہ یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز (USCIS) کی پریمیم پروسیسنگ فیس میں یکم مارچ 2026 سے اضافہ کیا جا رہا ہے۔
یہ اضافہ جون 2023 سے جون 2025 کے درمیان ہونے والی مہنگائی کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، جس کی اجازت USCIS اسٹیبلائزیشن ایکٹ کے تحت دی گئی ہے۔ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق پریمیم پروسیسنگ فیس میں یہ اضافہ ہر دو سال بعد مہنگائی کے تناسب سے کیا جاتا ہے تاکہ اس سروس کی اصل مالی قدر برقرار رہے۔ فیس میں اضافے سے حاصل ہونے والی آمدن کو تیز تر فیصلوں، امیگریشن درخواستوں کے بیک لاگ کم کرنے، عدالتی کارروائیوں کو بہتر بنانے اور شہریت و امیگریشن سروسز کو مضبوط بنانے پر خرچ کیا جائے گا۔نئے ضابطے کے تحت یکم مارچ 2026 یا اس کے بعد جمع کرائی جانے والی پریمیم پروسیسنگ درخواستوں پر نئی فیس لاگو ہو گی۔ نان امیگرنٹ ورکرز کے لیے فارم I-129 کی بعض اقسام کی فیس 1,685 ڈالر سے بڑھا کر 1,780 ڈالر جبکہ دیگر زیادہ تر کیٹیگریز کے لیے یہ فیس 2,805 ڈالر سے بڑھا کر 2,965 ڈالر کر دی گئی ہے۔اسی طرح روزگار کی بنیاد پر گرین کارڈ سے متعلق فارم I-140 کی پریمیم پروسیسنگ فیس بھی 2,805 ڈالر سے بڑھا کر 2,965 ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ طلبہ اور ایکسچینج وزیٹرز کے لیے فارم I-539 کی فیس 1,965 ڈالر سے بڑھا کر 2,075 ڈالر جبکہ ورک پرمٹ (OPT اور STEM-OPT) کے لیے فارم I-765 کی فیس 1,685 ڈالر سے بڑھا کر 1,780 ڈالر کر دی گئی ہے۔یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز نے واضح کیا ہے کہ پریمیم پروسیسنگ صرف انہی درخواستوں کے لیے دستیاب ہو گی جن کے لیے اس سروس کا اعلان کیا گیا ہے، اور درخواست گزاروں کو فارم I-907 جمع کراتے وقت نئی فیس لازماً شامل کرنا ہو گی۔