امریکا کی ویزا پالیسی مزید سخت، ہزاروں ڈالر بانڈ شرط عائد
امریکا نے ویزا پالیسی میں ایک نئی اور سخت شرط عائد کرتے ہوئے بعض ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا درخواست کے ساتھ پانچ ہزار سے پندرہ ہزار ڈالر تک بانڈ جمع کروانا لازم قرار دے دیا ہے، جس سے ویزا کا حصول نہ صرف مہنگا بلکہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق یکم جنوری سے ہو چکا ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی حکومت نے حالیہ فیصلے کے تحت سات مزید ممالک کو اس فہرست میں شامل کیا ہے، جن میں بھوٹان، بوٹسوانا، وسطی افریقی جمہوریہ، گنی، گنی بساؤ، نامیبیا اور ترکمانستان شامل ہیں۔ اس سے قبل موریطانیہ، ساؤ ٹومے اینڈ پرنسپے، تنزانیہ، گیمبیا، ملاوی اور زیمبیا کے شہریوں پر یہ شرط عائد کی جا چکی تھی، جس کے بعد بانڈ کی شرط والے ممالک کی مجموعی تعداد تیرہ ہو گئی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس بانڈ کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مخصوص ممالک کے شہری ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد امریکا میں غیر قانونی طور پر قیام نہ کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بانڈ کی ادائیگی ویزا کی منظوری کی ضمانت نہیں ہوتی، تاہم اگر ویزا مسترد ہو جائے یا ویزا ہولڈر تمام شرائط کی مکمل پابندی کرے تو بانڈ کی رقم واپس کر دی جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی کو مزید سخت بنانے کی کڑی ہے، جس کے تحت ویزا درخواست دہندگان کے لیے ذاتی انٹرویو، سوشل میڈیا سرگرمیوں کی جانچ اور سابقہ سفری و رہائشی ریکارڈ فراہم کرنا پہلے ہی لازمی قرار دیا جا چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے کئی ممالک کے شہریوں کے لیے امریکا کا سفر مشکل اور مہنگا ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی سفر، تعلیم اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔