امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے کہا ہے کہ منی سوٹا میں ادارے کی تاریخ کی سب سے بڑی امیگریشن انفورسمنٹ کارروائی شروع کر دی گئی ہے، جس کے تحت تقریباً 2 ہزار وفاقی ایجنٹس اور افسران کو منی ایپلس اور سینٹ پال کے علاقوں میں تعینات کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق اس کارروائی کا تعلق جزوی طور پر صومالی نژاد افراد سے منسلک مبینہ فراڈ کیسز سے ہے۔خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ منی سوٹا میں اس وقت ڈی ایچ ایس کی سب سے بڑی کارروائی جاری ہے، جس سے ریاست میں وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق زیادہ تر اہلکار امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم آپریشن کی تفصیلات ظاہر کرنے کی اجازت نہ ہونے کے باعث نام ظاہر نہیں کیے گئے۔امیگرنٹ حقوق کی تنظیموں اور مقامی منتخب نمائندوں کا کہنا ہے کہ سینٹ پال سمیت مختلف علاقوں میں وفاقی اہلکاروں کی اچانک بڑی تعداد میں موجودگی دیکھی گئی ہے، جہاں گاڑیوں کی تلاشی، کاروباری مراکز اور اپارٹمنٹ عمارتوں کے باہر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی سیکریٹری کرسٹی نوئم بھی کم از کم ایک گرفتاری کے دوران آئی سی ای اہلکاروں کے ہمراہ موجود تھیں، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔محکمے کے مطابق پیر کے روز منی ایپلس میں 150 افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ ایک گرفتار شخص ایکواڈور کا شہری تھا جو قتل اور جنسی حملے سمیت سنگین الزامات میں مطلوب تھا۔ یہ آپریشن ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ منی سوٹا کی صومالی کمیونٹی پر خاص توجہ دے رہی ہے۔ حکام کے مطابق کارروائی میں فراڈ، انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی ملازمت کے الزامات کی تحقیقات بھی شامل ہیں، جبکہ اس کی مدت اور دائرہ کار میں آئندہ دنوں میں تبدیلی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔