وینزویلا کے معزول صدر نکولس مادورو نے پیر کو مین ہٹن کی وفاقی عدالت میں پہلی پیشی کے دوران خود کو بے قصور قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اب بھی اپنے ملک کے صدر ہیں۔
مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورز کو کاراکاس میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا گیا، جہاں دونوں بروکلین کے میٹروپولیٹن ڈیٹینشن سینٹر میں زیرِ حراست ہیں۔عدالتی کارروائی کے دوران مادورو نے مترجم کے ذریعے کہا کہ انہیں اپنے حقوق سے پہلے آگاہی نہیں تھی اور وہ تمام الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کے وکیل نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ مادورو بطور ریاستی سربراہ استثنیٰ کے حقدار ہو سکتے ہیں اور ان کی گرفتاری کی قانونی حیثیت پر سوالات موجود ہیں۔ جج ایلون ہیلر اسٹین نے واضح کیا کہ حراست کو چیلنج کرنے کے لیے بعد میں موقع دیا جائے گا۔سیلیا فلورز نے بھی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو بے گناہ قرار دیا، جبکہ ان کے وکیل نے بتایا کہ گرفتاری کے دوران انہیں چوٹیں آئیں اور طبی معائنے کی درخواست کی گئی ہے۔ عدالت نے فی الحال ضمانت پر کوئی فیصلہ نہیں دیا اور اگلی سماعت 17 مارچ کو مقرر کی گئی ہے۔ادھر واشنگٹن میں ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کے رہنماؤں کو وینزویلا میں فوجی کارروائی پر بریفنگ دی، جس پر ریپبلکن اور ڈیموکریٹ رہنماؤں کے درمیان اختلاف سامنے آیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا فی الحال وینزویلا کے معاملات سنبھال رہا ہے، جبکہ عبوری صدر ڈیلسے روڈریگز نے مادورو کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے ملکی خودمختاری کے دفاع کا اعلان کیا ہے۔