امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لاطینی امریکا میں کشیدگی کو مزید بڑھاتے ہوئے کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو کو کھلی دھمکی دے دی ہے اور کہا ہے کہ کیوبا کی حکومت بھی اب گرنے کے قریب دکھائی دیتی ہے۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ کولمبیا اور وینزویلا دونوں “انتہائی بیمار” حالات سے گزر رہے ہیں، جبکہ انہوں نے پیٹرو کو براہِ راست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کولمبیا میں ایک “بیمار آدمی” حکومت چلا رہا ہے جو منشیات تیار کر کے امریکا فروخت کرتا ہے۔صدر ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ آیا کولمبیا میں امریکی فوجی کارروائی ممکن ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ انہیں “اچھا خیال” لگتا ہے۔ ان بیانات کے بعد کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے شدید ردعمل دیتے ہوئے لاطینی امریکا کے ممالک سے اتحاد کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ اگر خطہ متحد نہ ہوا تو سب کو “خادم اور غلام” سمجھا جائے گا۔ پیٹرو نے کہا کہ جنوبی امریکا میں امریکی بمباری انسانی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے، جس کے زخم طویل عرصے تک باقی رہیں گے۔ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد دعویٰ کیا کہ امریکا اب وینزویلا میں “کنٹرول” رکھتا ہے، اور یہ بھی کہا کہ اگر کیوبا “خود ہی گرنے کے قریب” ہے تو وہاں فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق کیوبا کی معیشت بڑی حد تک وینزویلا کے تیل پر منحصر تھی، جو اب بند ہو چکا ہے، اور اسی وجہ سے کیوبا شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اس صورتحال پر کیوبن نژاد امریکی خوش ہوں گے۔امریکی صدر نے میکسیکو کو بھی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اسے منشیات اسمگلنگ کے معاملے پر “اپنا نظام درست کرنا ہوگا”، ورنہ امریکا کو مداخلت کرنا پڑے گی۔