کیوبا کی حکومت نے کہا ہے کہ وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے دوران اس کے 32 فوجی اور پولیس افسران ہلاک ہوئے ہیں۔
ہوانا میں سرکاری ٹی وی پر جاری بیان کے مطابق یہ اہلکار وینزویلا کی حکومت کی درخواست پر ایک سیکیورٹی مشن پر تعینات تھے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کیوبا نے امریکی حملوں میں اپنے اہلکاروں کی ہلاکتوں کی باضابطہ تعداد بتائی ہے۔کیوبا کے بیان میں کہا گیا کہ اہلکاروں نے اپنی ذمہ داریاں وقار اور بہادری سے ادا کیں اور یا تو براہِ راست جھڑپوں میں یا بمباری کے نتیجے میں جان سے گئے۔ حکومت نے ہلاک ہونے والوں کے لیے دو روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے، جبکہ سابق صدر راول کاسترو اور موجودہ صدر میگوئل دیاز کانیل نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔ ہلاک ہونے والوں کے نام اور عہدے فوری طور پر ظاہر نہیں کیے گئے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وینزویلا میں کارروائی کے دوران “بہت سے کیوبنز مارے گئے” جبکہ امریکی جانب کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ امریکی حکام کے مطابق اس آپریشن میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا گیا، جن پر منشیات سے متعلق دہشت گردی کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی وینزویلا میں کیوبا کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مادورو کا اندرونی سیکیورٹی نظام کیوبنز کے زیرِ اثر تھا اور وہ انہیں اقتدار میں قائم رکھنے میں مدد دے رہے تھے۔ وینزویلا کی حکومت نے ہلاکتوں کی تصدیق تو کی ہے، تاہم تعداد بتانے سے گریز کیا ہے۔