vosa.tv
Voice of South Asia!

مادورو کی گرفتاری، کیا امریکا بین الاقوامی قانون کی حد پار کر گیا؟

0

امریکہ کی جانب سے وینزویلا میں فوجی کارروائی کر کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری نے بین الاقوامی قانون اور خودمختاری سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، اور قانونی ماہرین اس اقدام کی قانونی حیثیت پر شدید شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔ 

ہفتے کی علی الصبح ہونے والی اس کارروائی کے بعد بعض عالمی رہنماؤں کی جانب سے مذمت سامنے آئی، جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو نیویارک منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں فوجداری مقدمات کا سامنا ہوگا۔امریکی مؤقف کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے نکولس مادورو سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرتے آ رہے تھے اور ان پر منشیات کے کارٹلز کی سرپرستی کے الزامات عائد کرتے رہے، جنہیں واشنگٹن دہشت گرد تنظیمیں قرار دیتا ہے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ یہ گروہ منشیات کی اسمگلنگ کے ذریعے ہزاروں امریکیوں کی ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں۔ اسی تناظر میں ستمبر کے بعد امریکی افواج نے کیریبین اور بحرالکاہل میں وینزویلا سے منسلک مبینہ منشیات اسمگلنگ کی کشتیوں پر متعدد حملے کیے، جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔تاہم بین الاقوامی اور امریکی آئینی قانون کے ماہرین کے مطابق یہ کارروائیاں ممکنہ طور پر امریکی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے مادورو کی گرفتاری کے لیے فوجی معاونت طلب کی تھی، جبکہ نیویارک کی ایک گرینڈ جیوری پہلے ہی مادورو، ان کی اہلیہ، بیٹے اور دیگر افراد پر دہشت گردی، منشیات اور اسلحہ سے متعلق الزامات عائد کر چکی تھی۔ امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزمان امریکی عدالتوں میں مکمل قانونی کارروائی کا سامنا کریں گے۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا جب صدر ٹرمپ نے ایک طرف اس کارروائی کو قانون نافذ کرنے کا اقدام قرار دیا اور دوسری جانب وینزویلا میں امریکی کنٹرول اور تیل کے مفادات کی بات بھی کی۔ نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے آئینی قانون کے ماہر پروفیسر جیریمی پال کے مطابق کسی کارروائی کو محض گرفتاری کا عمل کہنا اور ساتھ ہی کسی ملک کو چلانے کی بات کرنا قانونی طور پر بے معنی ہے۔ ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ امریکی آئین کے تحت جنگ کا اعلان کانگریس کا اختیار ہے، جبکہ صدر محدود فوجی کارروائیوں کا جواز قومی مفاد کے تحت پیش کرتے رہے ہیں۔بین الاقوامی قانون کے مطابق طاقت کا استعمال صرف چند استثنائی حالات میں جائز ہوتا ہے، جیسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت یا واضح دفاعی ضرورت۔ قانونی ماہرین کے مطابق منشیات کی اسمگلنگ اور گینگ تشدد عام فوجداری جرائم کے زمرے میں آتے ہیں اور انہیں بنیاد بنا کر کسی خودمختار ملک میں فوجی کارروائی کو قانونی جواز دینا مشکل ہے۔ کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر میتھیو ویکس مین کے مطابق محض ایک فردِ جرم کسی غیر ملکی حکومت کو ہٹانے کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دیتی، اور غالب امکان ہے کہ انتظامیہ اس اقدام کو اپنے دفاع کے نظریے کے تحت پیش کرے گی۔ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ 2019 سے نکولس مادورو کو وینزویلا کا جائز صدر تسلیم نہیں کرتا، تاہم بین الاقوامی قانون میں مؤثر نفاذ کے نظام کی کمی کے باعث یہ بعید ہے کہ واشنگٹن کو اس کارروائی پر کسی ٹھوس احتساب کا سامنا کرنا پڑے، چاہے یہ اقدام قانونی طور پر متنازع ہی کیوں نہ ہو۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.