vosa.tv
Voice of South Asia!

امریکا وینزویلا تنازع، عالمی طاقتیں دو حصوں میں بٹ گئیں

0

وینزویلا پر امریکا کی فوجی کارروائی کے بعد عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے اور عالمی رہنما واضح طور پر دو کیمپوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔

بعض ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کرتے ہوئے کارروائی کو درست قرار دیا، جبکہ کئی طاقتور ریاستوں نے اسے خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دے کر سخت مخالفت کی ہے۔ صورتحال نے عالمی سیاست میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وینزویلا پر حملے کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے لیے ایک خطرناک مثال بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی کارروائی خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتی ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ چین نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے ایک خودمختار ملک کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کو ناقابلِ قبول اور قابلِ مذمت قرار دیا، جبکہ جرمنی نے تمام فریقین سے کشیدگی کم کرنے اور سیاسی حل تلاش کرنے کی اپیل کی ہے۔دوسری جانب برطانیہ، فرانس اور اٹلی نے امریکی مؤقف کی حمایت کی ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے مادورو دور کے خاتمے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وینزویلا میں پُرامن انتقالِ اقتدار کی خواہش ظاہر کی۔ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے اپوزیشن رہنما ایڈمونڈو گونزالیز کے کردار کی حمایت کی، جبکہ اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے امریکی کارروائی کو دفاعی اقدام قرار دیا۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بھی حملے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کو مبارکباد دی۔اس کے برعکس روس، کیوبا، کولمبیا اور ایران نے امریکی کارروائی کی شدید مذمت کی ہے، جبکہ اسپین نے وینزویلا بحران کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ بڑھتی ہوئی عالمی تشویش کے پیشِ نظر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے، جس میں وینزویلا کی صورتحال اور عالمی امن کو درپیش ممکنہ خطرات پر غور کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.